چیف منسٹر کی غیر حاضری سے شبہات کو تقویت، تقریب سنگ بنیاد میں علماء نے بھی اعتراض جتایا، گوگل میاپ سے وضاحت کا مطالبہ
حیدرآباد۔26۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے نئے سکریٹریٹ کے احاطہ میں تعمیر کی جانے والی مساجد کے حقیقی مقام کے بارے میں شدید شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حقیقی مقام کے بارے میں گمراہ کرنے کیلئے عجلت میں مساجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ مسجد دفاتر معتمدی اور مسجد ہاشمی کو ٹی آر ایس حکومت نے جولائی 2020 ء میں راتوں رات شہید کردیا تھا۔ گزشتہ دیڑھ برسوں میں مساجد کی موجودہ مقامات پر دوبارہ تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کئی کھوکھلے وعدے کئے گئے ۔ ٹی آر ایس حکومت نے مساجد کا مقام تبدیل کرتے ہوئے پھر ایک بار مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگ بنیاد کے موقع پر موجود کئی مذہبی قائدین نے حقیقی مقام کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا لیکن انہیں مطمئن کئے بغیر ہی خاموش کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ میں وضاحت کریں۔ جولائی 2020 ء سے قبل کے گوگل میاپس کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ بھروسہ دلایا جائے کہ مساجد حقیقی مقامات پر تعمیر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی جدوجہد حقیقی مقام کیلئے تھی جہاں وہ 1528-29 ء میں تعمیر کی گئی تھی جسے 6 ڈسمبر کو منہدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے اعتبار سے مساجد کے مقام کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ کے سی آر حکومت نے مساجد کو شہید کرتے ہوئے پہلا جرم کیا اور اس کا دوسرا جرم مساجد کے مقام کی تبدیلی ہے۔ تقریب سنگ بنیاد کو رازداری میں انجام دینا شبہات کو تقویت پہنچاتا ہے۔ چند منتخب سیاسی اور مذہبی قائدین کو پروگرام سے چند گھنٹے قبل مدعو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کی تعمیر نو کے لئے جدوجہد کرنے والے مذہبی اور سماجی قائدین کو پروگرام کے اختتام تک گھروں میں محروس رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ محمد محمود علی مطمئن ہیں کہ مساجد کا مقام تبدیل نہیں کیا گیا تو پھر انہیں دوسروںکو نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کیا ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک مذہبی مقام کو ممنوعہ علاقہ میں تبدیل کرچکی ہے۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ خود دونوں مساجد اور مندر کا ایک ہی دن میں سنگ بنیاد رکھیں گے۔ انہوں نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں چرچ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا تھا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تقریب سے چیف منسٹر کی غیر حاضری معنیٰ خیز ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد اویسی نے بھی اس اہم پروگرام سے خود کو دور رکھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے کسی بھی عہدیدار کو پروگرام میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔