26 فروری سرکاری اعلان نہیں، کانگریس قائد راشد خاں کا بیان
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے اعلان کیا کہ سکریٹریٹ کی مساجد کے لئے سنگ بنیاد تک حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ نائب صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی محمد راشد خاں نے کہا کہ مساجد کی دوبارہ تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کا موقف غیر واضح ہے۔ چیف منسٹر نے گذشتہ سال جولائی میں مساجد کی شہادت کے بعد سے ایک سے زائد مرتبہ مساجد کی تعمیر کیلئے سنگ بنیاد کا اعلان کیا تھا۔ اکٹوبر میں سنگ بنیاد کیلئے اسمبلی میں تیقن دیا گیا لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ راشد خاں نے تین ریاستی وزراء کی جانب سے ارکان اسمبلی اور مذہبی قائدین کے طلب کردہ اجلاس کو محض دکھاوا قرار دیا اور کہا کہ حکومت پھر ایک مرتبہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 26 فروری سنگ بنیاد کیلئے طئے کی گئی تو پھر اس کا اعلان ریاستی وزراء کو کرنا چاہیئے تھا۔ کسی بھی وزیر نے میڈیا سے بات چیت نہیں کی بلکہ اجلاس میں شریک افراد اپنے طور پر تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ 27 جنوری کو یہ اجلاس طلب کیا گیا لیکن آج تک کسی وزیر اور سرکاری عہدیدار نے باقاعدہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ حکومت کے اخبارات میں بھی اجلاس سے متعلق رپورٹ میں تاریخ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ راشد خاں نے کہا کہ مسلمانوں کو مساجد کی تعمیر کیلئے احتجاج سے روکنے کیلئے مذہبی قائدین اور ارکان اسمبلی کو استعمال کیا گیا۔ اگر 26 فروری کی تاریخ طئے کی گئی تھی تو پھر کسی وزیر نے اس کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے دیگر وعدوں کے بارے میں کے سی آر غیرسنجیدہ ہیں اسی طرح مساجد کے معاملہ میں بھی ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو چاہیئے کہ وہ سنگ بنیاد کی حقیقی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی بے چینی کو دور کریں۔ انہوں نے مساجد کے بارے میں طلب کئے جانے والے اجلاسوں میں کانگریس اور دیگر تنظیموں کو مدعو کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ سب سے پہلے مساجد کیلئے کانگریس پارٹی نے آواز اٹھائی تھی۔