سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر کیلئے ریاست گیر احتجاج کا منصوبہ

   

جمعیت العلماء کی گول میز کانفرنس میں علماء اکرام و دانشوروں کی شرکت، پوسٹرس کی رسم اجراء

نظام آباد ۔ جمعیۃ علماء ہندضلع نظام آباد کی گول میز کانفرنس کے اجلاس میں ضلع نظام آباد کے اہم ترین علماء کرام ودانشوران نے شرکت کی جس میں یہ قرار دادیں منظور کی گئیں کہ سکریٹریٹ کی شہید کردہ مساجد کو اسی جگہ تعمیر کی جائے، عدم تعمیر کی صورت میں ریاست گیر احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاجائے گا علاوہ ازیں ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین سے یہ مطالبہ کیاجارہاہے کہ وہ فوری حکومت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے استعفیٰ پیش کریں۔واضح رہے کہ حکومت وقت تعمیر جدید کے بہانہ سے سکریٹریٹ کی دو قدیم تاریخی مساجد کو شہید کردیا گیا ۔حکومت کے اس عمل سے مسلمانوں کو ٹھیس پہونچی جمعیۃ علماء کا ماننا ہیکہ اس طرح کی انہدامی کارروائی سے جمہوریت داغدار ہوگی اور تلنگانہ حکومت کی حقیقت بھی سامنے آگئی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں جناب کے سی آر چیف منسٹر سے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی واضح پالیسی پیش کرے اور اسی جگہ پر مساجد کی تعمیر کو یقینی بنائے ۔ایسالگتا ہے کہ غیرمحسوس طریقہ پر مذہبی مقامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے کے سی آر بھی پی وی نرسمہاراؤ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں لیکن مسلماناں تلنگانہ قطعاً اس کو برداشت نہیں کریں گے اس لے ہم پرزور اپیل کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان مساجد کو اسی مقام پر تعمیر کیا جائے بصورت دیگر ریاستی صدرجمعیۃ علماء حافظ پیر شبیراحمد کے ساتھ مل کر تمام ہی اضلاع کے علماء ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کریں گے ۔اس موقع پر ضلعی جمعیۃ کے سابقہ صدر جناب مولانا سید ولی اللہ قاسمی صاحب علیہ الرحمۃ کے لئے ایصال ثواب اور آپ کی سیاسی سماجی دینی اورملی خدمات کو یاد کرتے ہوے خراج عقیدت پیش کیا گیا آپ کی مغفرت اور قرب خداوندی کے لئے دعاء کی گئی۔ اجلاس میں تمام منڈلوں کے صدورمولانا لئیق احمد قاسمی، مفتی رفیق ذاکر قاسمی ، مولانا عبدالرقیب قاسمی، مفتی نظام الدین، مولانا صابر مفتاحی ،حافظ جلال الدین ،مفتی شوکت قاسمی، مولانا عبدالحمید السائح، مولانارضوان قاسمی نے شرکت کی ۔مولاناعبدالقیوم شاکر القاسمی نے اجلاس کی کارروائی اور تجاویز کوپیش کرتے ہوے تمام ہی علماء وذمہ داران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔