سکریٹریٹ کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی، سرکاری ملازمین کو داخلے کی اجازت

   

وزیر داخلہ محمود علی اور سابق وزیر محمد علی شبیر کی کامیاب مساعی، ملازمین کا اظہار اطمینان
حیدرآباد۔ 4 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاستی سکریٹریٹ کی مسجد میں آج نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں سکریٹریٹ میں واقع دفاتر کے مسلم ملازمین نے شرکت کی۔ اگرچہ سکریٹریٹ میں تمام محکمہ جات کو منتقل کردیا گیا ہے، تاہم سکریٹریٹ کے اطراف موجود عمارتوں میں کام کرنے والے ملازمین نے نماز جمعہ مسجد دفاتر معتمدی میں باجماعت ادا کی۔ اس طرح مسجد میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی کی پولیس کی کوششوں کو روک دیا گیا۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے پولیس کے اعلی عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ سکریٹریٹ کے پاس ہولڈر ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جانے کی اجازت دیں چاہے ان کے دفاتر سکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود کیوں نہ ہوں۔ سکریٹریٹ میں یوں تو برائے نام دفاتر موجود ہیں جبکہ بیشتر دفاتر کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے متصل بی آر کے بھون میں منتقل کیا گیا ہے۔ ایسے ملازمین جن کا تعلق سکریٹریٹ سے رہا انہیں پاس کی موجودگی پر نماز کے لیے جانے کی اجازت دی گئی۔ سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر قائد محمد علی شبیر نے چیف سکریٹری ایس کے جوشی سے ربط قائم کرتے ہوئے سکریٹریٹ کی مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت دینے کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ اطراف کی سرکاری عمارتوں میں کام کرنے والے مسلم ملازمین کے لیے یہ واحد مسجد ہے۔ بی آر کے بھون اور دیگر عمارتوں میں جن دفاتر کو منتقل کیا گیا وہاں کے مسلم ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے دور جانا پڑسکتا ہے۔ لہٰذا اگر انہیں سکریٹریٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے تو بہتر رہے گا۔ چیف سکریٹری نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور سکیوریٹی حکام کو ہدایات جاری کی گئیں کہ سکریٹریٹ کے پاس ہولڈر ملازمین کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی جائے۔ مسجد کے امام جن کا تعلق محکمہ صحت سے ہے دفتر کی منتقلی کے باوجود سکیوریٹی حکام انہیں نماز کے اوقات میں جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ عام نمازوں میں مصلیوں کی تعداد اگرچہ کم ہے تاہم جمعہ کے موقع پر تقریباً 100 مصلی موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مساجد کو مقفل کرنے کی اطلاع سے مسلمانوں میں پھیلی بیچینی کو دیکھتے ہوئے پاس ہولڈر سرکاری ملازمین کو نماز جمعہ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ الغرض سکیوریٹی حکام کی سختیاں وزیر داخلہ محمد محمود علی اور سابق وزیر محمد علی شبیر کی مداخلت کے بعد ختم کردی گئی ہیں۔ سکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود مندر میں بھی باقاعدہ پوجا کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس طرح عبادتگاہوں سے متعلق عوام میں اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔