چیف سکریٹری کو چیف منسٹر کی ہدایت، تعمیری کام سے قبل کے سی آر معائنہ کریں گے
حیدرآباد : چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ سکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کے ملبہ کی صفائی کا کام جنگی خطوط پر انجام دیا جائے تاکہ تعمیری کاموں کا آغاز کیا جاسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں چیف سکریٹری سے استفسار کیا جس پر انہیں تیقن دیا گیا کہ اندرون دو یوم ملبہ کی صفائی کا کام مکمل ہوجائے گا اور سکریٹریٹ ایک مسطح میدان میں تبدیل ہوجائے گا جس کے بعد نئے پلان کے مطابق تعمیری کاموں کا آغاز کیا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے نئے سکریٹریٹ کامپلکس کے پلان کو منظوری دے دی ہے اور وہ تعمیری کام کے آغاز سے قبل ایک مرتبہ اراضی کا معائنہ کریں گے۔ چیف منسٹر کے دورہ کے بعد تعمیری کام کا آغاز ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اجلاس کے دوران چیف منسٹر سکریٹریٹ کا معائنہ کرسکتے ہیں۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ قدیم عمارتوں کے انہدام سے ایک لاکھ میٹرک ٹن ملبہ نکلا ہے جو 60,000 ٹرکس کے لوڈ کے مماثل ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ٹرک ملبہ منتقل کر رہے ہیں۔ رامکی یونٹس کو ری سیکلنگ کیلئے ناکارہ اشیاء روانہ کی جارہی ہے۔ حکومت کمپنی کو فی ٹن 91 روپئے ری سیکلنگ کیلئے ادا کر رہی ہے ۔
حکومت نے اگرچہ ری سیکلنگ کی اشیاء کو نئی تعمیر میں استعمال کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ، تاہم عہدیداروں نے بتایا کہ ری سیکلنگ سے ریت کی طرح میٹریل تیار ہورہا ہے جسے عمارت کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ لوہا اور پلاسٹک کی اشیاء کی ری سیکلنگ کا کام بھی جاری ہے۔ کمپنی کی جانب سے ری سیکل کردہ اشیاء سے بلاکس تیار کئے جارہے ہیں جن کا استعمال کمپاؤنڈ وال کی تعمیر میں کیا جاسکتا ہے۔ ملبہ سے ٹائلس تیار کئے جارہے ہیں جو سکریٹریٹ کے احاطہ میں فٹ پاتھ پر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 95 فیصد ملبہ ری سیکل کیا جاسکتا ہے جبکہ 5 فیصد کا استعمال ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتداء میں حکومت نے ملبہ سے تیار کردہ میٹریکل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ماحولیاتی مسائل کا بہانہ بناکر فیصلہ تبدیل کردیا گیا۔ اسی دوران ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا نے نئے سکریٹریٹ کامپلکس کی تعمیر کو ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ 7 لاکھ مربع فٹ اراضی پر حکومت 7 منزلہ کامپلکس کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عمارتوں کے انہدام کے خلاف عدالت میں درخواستوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تمام ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا نے نئی عمارت کے لئے کلیئرنس دے دیا ہے۔ تعمیر پر 400 کروڑ خرچ کئے جائیں گے اور محکمہ آر اینڈ بی نے اندرون ایک ہفتہ ٹنڈرس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔