کورونا کے کیسس میں اضافہ سے سرکاری ملازمین خوفزدہ،600 سے زائد ملازمین کورونا سے متاثر
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کیسس میں غیر معمولی اضافہ کے بعد سکریٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر میں سخت چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔ تلنگانہ سکریٹریٹ میں پہلے ہی وزیٹرس کے داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ کمشنریٹ اور ڈائرکٹوریٹ کے دفاتر میں بھی عوام کے داخلہ پر تحدیدات عائد کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست بھر کے تمام اہم سرکاری دفاتر میں وزیٹرس کے داخلہ پر روک لگادی گئی کیونکہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران سرکاری دفاتر میں کورونا کیسس میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملازمین دو دن میں ایک مرتبہ ڈیوٹی پر حاضری کی سہولت کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس سہولت کیلئے تیار نہیں ہے لہذا اس نے وزیٹرس کے داخلہ پر پابندی عائد کردی تاکہ ملازمین کو کورونا وباء سے بچایا جاسکے۔ سکریٹریٹ کی عمارت میں ملازمین جگہ کی قلت کی شکایت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عجلت میں عارضی سکریٹریٹ تیار کیا گیا اور جگہ کی کمی کے نتیجہ میں ملازمین اور عہدیدار سماجی فاصلہ کی برقراری سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر میں تاحال 600 سے زائد ملازمین کورونا سے متاثر ہوئے۔ کیسس کی یہ صورتحال ملازمین میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرچکی ہے۔ واضح رہے کہ چیف سکریٹری سومیش کمار خود کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ وزیٹرس کے داخلہ کے سلسلہ میں پابندی کے ساتھ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ انتہائی اہم ضرورت کی صورت میں عہدیدار کی اجازت سے کسی ایک شخص کو عمارت میں جانے کی اجازت رہے گی۔ سکریٹریٹ کے تقریباً 100 ملازمین کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا دفتر بھی کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بن چکا ہے۔ حالیہ عرصہ میں نارائن پیٹ ضلع کلکٹر کے پرسنل اسسٹنٹ کی کورونا سے موت واقع ہوئی ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کو اس وباء سے بچانے کیلئے مزید سخت اقدامات کرسکتی ہے۔ ملازمین کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ جب تک دو دن میں ایک مرتبہ ڈیوٹی کی اجازت نہیں دی جاتی اسوقت تک صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔