دفتر اکیڈیمی پر احتجاج، بدسلوکی واقعہ کی تحقیقات کیلئے احمد ندیم سکریٹری اقلیتی بہبود کی ہدایت
حیدرآباد : کانگریس پارٹی کے زیراہتمام آج حج ہاؤز نامپلی پر دھرنا منظم کیا گیا جس میں سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی محمد غوث کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ جنرل سکریٹری پردیش کانگریس اور سماجی جہدکار عظمیٰ شاکر اور سکریٹری پردیش کانگریس بی جڈسن کی قیادت میں خواتین کی کثیر تعداد نے دھرنے میںحصہ لیکر اردو اکیڈیمی اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ احتجاجیوں کا الزام ہیکہ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے عثمانیہ یونیورسٹی کی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آصف سابع میر عثمان علی خاں پر سمینار کے انعقاد کیلئے مالی تعاون حاصل کرنے اکیڈیمی پہنچنے والی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کی گئی۔ عظمیٰ شاکر نے بتایا کہ پولیس عابڈز میں شکایت درج کرائی گئی تھی لیکن اثرورسوخ کا استعمال کرکے کیس کو بند کردیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ویمنس کمیشن اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے شکایت کی گئی ہے۔ احتجاجیوں نے خاطی عہدیدار کی گرفتاری اور عہدہ سے برطرفی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کافی دیر تک جاری رہا جس کے بعد پولیس نے احتجاجیوں کو گرفتار کرکے بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کیا جہاں سے شام میں رہائی عمل میں آئی۔ واقعہ کے سلسلہ میں چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھی مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے سخت نوٹ لیتے ہوئے شکایت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اسی دوران محمد غوث نے الزامات کی تردید کی ہے۔ واقعہ کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے حکومت کو رپورٹ روانہ کی جارہی ہے۔