8 جون کو ریلوے سیفٹی کمشنر کا معائنہ ، ٹرین سرویس سے عوام کو سہولت
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد شروع کردہ پہلا ریلوے پراجکٹ سکندرآباد تا گجویل جاریہ ماہ کے اواخر تک مکمل ہوجائے گا اور ٹرین کی خدمات عوام کو دستیاب ہوجائے گی ۔ 1,160 کروڑ روپئے کے مصارف سے تیار ہونے والے اس پراجکٹ کی روٹ پر 3 نئے ریلوے اسٹیشن اور 4 بڑے بریجس تعمیر کئے گئے ہیں ۔ 8 جون کو ریلوے سیفٹی کمشنر اس پراجکٹ کا معائنہ کریں گے ۔ نقائص کی نشاندہی کرنے کے بعد اس کی درستگی کے ساتھ ہی ٹرین چلانے کی اجازت دیں گے ۔ واضح رہے کہ 2016 میں وزیراعظم نریندر مودی نے گجویل میں اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ سکندرآباد سے گجویل تک ٹرین کی خدمات جون کے اواخر تک عوام کو دستیاب ہوجائے گی ۔ سارے تعمیراتی کام مکمل ہوگئے ہیں ۔ 8 جون کو ریلوے سیفٹی کمشنر اس پراجکٹ کے کاموں کا معائنہ کریں گے ۔ اس دن ٹرین کتنی اسپیڈ چلائی جائے اس کا فیصلہ کیا جائے گا ساتھ ہی اگر کوئی تکنیکی مسائل ہیں تو ریلوے سیفٹی کمشنر کی ہدایت پر مقامی عہدیدار اس کو درست کرلیں گے ۔ اس کے بعد ٹرین چلانے کے لیے گرین سگنل مل جائے گا ۔ بتایا جارہا ہے کہ 25 جون کے بعد کسی بھی وقت ٹرین چلانے کی اجازت مل سکتی ہے ۔ اس روٹ پر ڈیزل لوکو موٹیو کے ساتھ ریل چل رہی ہے ۔ آئندہ پانچ سال بعد اس کو الکٹریفکیشن کیا جاسکتا ہے ۔ ریلوے عہدیداروں نے بتایا کہ دو ماہ قبل ہی تمام کام مکمل ہوگئے تھے تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریلوے سیفٹی کمشنر نے معائنہ نہیں کیا ہے ۔ ٹریک ، اسٹیشن ، عمارتیں پلیٹ فارمس ، بریجس وغیرہ مکمل تعمیر ہوگئے ہیں ۔ میڑچل کے قریب نظام آباد ریلوے لائن کے پاس سے منوہر آباد تک نئی ریلوے لائن کا آغاز ہوگا ۔ جہاں نئے ریلوے اسٹیشن کے لیے عمارت تعمیر ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد ناچارم اسٹیشن ہوگا ۔ وہاں بھی عمارت اور پلیٹ فارم تیار ہوگیا ہے ۔ اس کے بعد بیگم پیٹ اسٹیشن آئے گا جہاں سارے کام پائے تکمیل کو پہونچ گئے ہیں ۔ اس کے بعد گجویل اسٹیشن ہوگا ۔ جس کے کام بھی مکمل ہوگئے ہیں ۔ اس روٹ پر 4 بڑے بریجس تعمیر کئے گئے ہیں ۔۔