سکندرآباد میں مجوزہ فلائی اوور پائیگاہ پیالیس اور دیگر عمارتوں کو خطرہ، مکینوں کی مخالفت

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد 11 جنوری (سیاست نیوز) سکندرآباد کے علاقے پٹی گڈہ کے باشندے مجوزہ فلائی اوور کی تعمیر کی مخالفت کررہے ہیں جس سے حیدرآباد اور سکندرآباد کے درمیان رابطہ بہتر ہونے کی اُمید ہے کیوں کہ اس سے املاک کو نقصان پہونچے گا اور ورثے کے محفوظ ڈھانچوں کو نقصان پہونچے گا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ فلائی اوور پر ان رہائشی علاقوں میں ٹریفک میں اضافہ کرے گا۔ رہائشیوں کی طرف سے مخالفت اس وقت سامنے آئی جب انھیں اکٹوبر 2025ء میں متعدد ڈھانچوں پر حصول کے نوٹس بھیجے گئے۔ جنھیں فلائی اوور کے لئے راستہ بنانے کے لئے منہدم کردیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 64 جائیدادیں جن میں 46 نجی اور 18 سرکاری جائیدادیں شامل ہیں، متاثر ہوں گے۔ گریڈ II کے ورثے کے ڈھانچے پائیگاہ پیالس کے آؤٹ ہاؤس اور کچن اور برج کو مسمار کرنے کے لئے نشان زد کرنے کے خلاف سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پراجکٹ پلان کے مطابق 90 مربع گز کے محل اور 130 سال پرانے گڑھ (برج) کو فلائی اوور کے لئے راستہ بنانا ہے۔ پہلے یہ محل دیوڑھی نذیر نواز جنگ کے نام سے جانی جاتی تھی جس میں نظام کی بہن رہتی تھیں۔ بیرونی ممالک میں ورثے کے ڈھانچے کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔ پائیگاہ سے تعلق رکھنے والے عبیدالرحمن نے کہاکہ ہمارے لئے جو بچا ہے وہ زبردستی چھین لیا جارہا ہے۔ جی ایچ ایم سی کو پراجکٹ پلان پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔ مقامی رہائشی اشوک گوئل نے کہاکہ میں مجوزہ فلائی اوور کی وجہ سے اپنے پورے پارکنگ ایریا کے 125 مربع گز اور اپنے گھر کا کچھ حصہ کھورہا ہوں۔ ایک رہائشی نے کہاکہ منسٹرس روڈ کے مخالف سمت میں خالی سرکاری اراضی کو فلائی اوور کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور رہائشی نے کہاکہ منسٹرس روڈ سے رام گوپال پیٹ پولیس اسٹیشن کے راستے نیکلس روڈ تک لے جانے کا منصوبہ بنائے۔ جی ایچ ایم سی کو فلائی اوور پر بار بار کی درخواستوں اور اعتراضات کو نظرانداز کرنے کے بعد مکینوں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی۔ درخواست گذاروں کے مطابق عدالت نے جمود کو 20 جنوری تک بڑھادیا اور جی ایچ ایم سی کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ (ش)