سکندرآباد کے ایک تعلیمی ادارے میں بھی حجاب پر پابندی!

   

طالبہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ انکشاف، سرپرستوں میں تشویش
حیدرآباد : /9 فبروری (سیاست نیوز) کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا معاملہ طول پکڑچکا ہے اور ہر گوشہ سے کرناٹک حکومت کی سرزنش کی جارہی ہے ۔ اسی دوران شہر حیدرآباد میں بھی ایک تعلیمی ادارے میں مبینہ طور پر ایک طلبہ کو حجاب نہ پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مایوس طالبہ جس کی شناخت فاطمہ کی حیثیت سے کی گئی ہے نے ٹوئٹر کے ذریعہ اپنا احتجاج درج کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سکندرآباد جوبلی بس اسٹانڈ کے قریب واقع سوئیکار اکیڈیمی آف ری ہیبیلیٹیشن سائینسیس کے چیرمین ہنمنت راؤ نے طلبہ پر یہ لزوم عائد کیا ہے کہ وہ احاطہ کالج میں حجاب یا برقعہ نہ پہنے ۔ اتنا ہی نہیں کالج انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ صرف ساڑی پہن کر ہی ادارہ میں آئے ۔ ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ فاطمہ نے یہ بات بتائی کہ /8 فبروری کو اس کی ایک ساتھی کو برقعہ اتارنے کیلئے بھی کہا گیا تھا اور اس کے بعد طالبات میں بے چینی پیدا ہوگئی ۔ فاطمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ ادارہ کے انتظامیہ کی جانب سے حجاب سے متعلق نیالزوم عائد کرنے کے بعد وہ گزشتہ چند دنوں سے کالج بھی نہیں گئی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں کالج میں داخلے کے وقت فارم میں یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈریس کوڈ کے بارے میں بھی تفصیلات بتائیں ۔ متاثرہ لڑکی نے یہ کہا ہے کہ اس نے پولیس میں شکایت نہیں کی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ ٹوئٹر کے ذریعہ شکایت کرکے اس نے اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھا ہے اور کالج کا چیرمین انہیں مذہب کے نام پر نشانہ بنارہا ہے ۔ حالانکہ اس سلسلہ میں متعلقہ پولیس عہدیداروں سے ربط پیدا کرنے پر انہوں نے اس واقعہ سے لاعلمی کااظہار کیا ہے ۔ اسی طرح ادارہ کے انتظامیہ سے بھی ربط پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ اس واقعہ کے بعد سرپرستوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ب