سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان

,

   

Ferty9 Clinic

نمونیا ‘ تنفسی انفیکشن اور ٹی بی کے خطرات میں بھی اضافہ ۔ کھلے سگریٹ کی فروخت پر امتناع کی وکالت

حیدرآباد 29 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ پھیپھڑوں اور سینہ کے انفیکشن کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دوسرے تنفسی وائرس ( جیسے انفلوئنزا ) لاحق ہوسکتے ہیں اور بیکٹریا کی وجہ سے ٹی بی جیسا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔ اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں انہیں سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کی بہ نسبت کورونا وائرس کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ لاحق رہتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ پھیپھڑوں میں قدرتی طور پر بلغم تیار ہوتا ہے تاہم جو لوگ سگریٹک نوشی کرتے ہیں ان کا بلغم زیادہ سخت اور موٹا بلغم پیدا ہوتا ہے جس کا پھیپھڑوں سے نکل جانا مشکل ہوتا ہے ۔ یہی بلغم پھیپھڑوں میں جمع ہوجاتا ہے اور اس کے انفیکشن کا شکار ہونے کا خطرہ بھی زیادہ رہتا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے انسانی جسم میں نظام مدافعت کمزور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی انفیکشن سے مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ سکریٹری انڈین ڈینٹل اسوسی ایشن ڈاکٹر اے سریکانت نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد بھی اگر سگریٹ کے دھویں کے آس پاس رہتے ہیں تو اس کی وجہ سے بھی پھیپھڑوں پر منفی اثر ہوتا ہے اور انسانی نظام مدافعت کمزور ہوجاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں سینہ میں تکلیف ہوسکتی ہے اور تنفسی کا انفیکشن بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ بہت اہمیت کی حامل بات ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد دوسروں کی موجودگی میں سگریٹ نوشی کرنے سے گریز کریں۔ فی الحال کئی لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ اپنے افراد خاندان کے سامنے ہی سگریٹ نوشی کریں۔ خاص طور پر اگر بچوں کی موجودگی میں سگریٹ نوشی کی جاتی ہے تو اس سے بچوںمیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں اگر وہ کورونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں تو انہیں زیادہ میڈیکل پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ڈپٹی ڈائرکٹر سنٹر برائے کینسر ٹاٹا میموریل ہاسپٹل ڈاکٹر پنکج چترویدی کا کہنا ہے کہ چینی میڈیکل جرنل میں شائع ایک اسٹڈی میں پتہ چلا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں ان کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے اندیشے 14 گنا زیادہ ہیں ۔ یہ اسٹڈی ایک جامع ریسرچ اور سروے کے بعد شائع کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں نمونیا ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ لاک ڈاون کی صورتحال میں انفورسمنٹ حکام کو سگریٹ کی فروخت پر امتناع عائد کردینا چاہئے ۔