سیارہ مشتری اور زحل کا آپسی ملاپ

   

21 دسمبر کو نادر نظارہ ، سادہ آنکھ سے بھی مشاہدہ ممکن
حیدرآباد۔ سیارہ مشتری اور زحل کے آپس میں ملاپ کا نادر نظارہ 21 ڈسمبر کی شب کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین علوم فلکیات کا کہنا ہے کہ 1623 کے بعد اس سال دونوں سیارے ایک دوسرے سے اتنے قریب نظر آئیں گے کہ دونوں ایک انتہائی چمکدار ستارے کے مانند نظر آئیں گے۔ مسٹر دیبی پرساد دواری ڈائریکٹر ایم پی برلا سائنس پلانیٹوریم نے اس سلسلہ میں ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ نادر فلکیاتی نظارہ کرۂ ارض سے کیا جاسکتا ہے اور 21 ڈسمبر کی شام غروب آفتاب کے بعد سے یہ نظارہ ملک بھر کے کئی شہروں میں کیا جاسکتا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ مشتری اور زحل کے ایک دوسرے سے اتنے قریب آنے کا واقعہ انتہائی نادر ہے اور آئندہ ان دونوں سیاروں کے اتنے قریب آنے کی توقع 15مارچ 2080 کو ہے ۔ دونوں سیاروں کے اس قدر قریب آنے کا نظارہ ایک نادر موقع ہے اور اب اس نظارے کے بعد دوبارہ ایسا نظارہ 60 سال کے بعد ممکن ہے۔ مسٹر دواری نے نے بتایا کہ زحل اور مشتری کے درمیان مجموعی فاصلہ 735 ملین کیلو میٹرہے اور 21 ڈسمبر کی شب یہ فاصلہ مکمل طور پر ختم میں شمار ہوگا اور دونوں سیاروں کے ایک دوسرے سے کافی قریب ہونے کے سبب آسمان پر ایک انتہائی چمکدار ستارہ کے مانند نظر آئیں گے جو دوسرے ستاروں کے مقابلہ میں کافی چمکدار ہوں گے۔سیارہ زحل کو سورج کے اطراف ایک چکر مکمل کرنے کیلئے 30سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ سیارہ مشتری 12 سال کی مدت میں یہ چکر پورا کرتا ہے۔اس نادر فلکیاتی کا نظارہ با آسانی کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ زحل اور مشتری کے ملاپ کے اس نادر فلکیاتی نظارہ کو سادہ آنکھ کے علاوہ ٹیلی اسکوپ سے بھی مزید بہتر انداز میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔نادر فلکیاتی نظاروں کا مشاہدہ کرنے سے دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ اس طرح کے نادر واقعات کا ریکارڈ جمع کرنے والوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں 21ڈسمبر کی شب شہر میں نادر فلکیاتی نظارہ کے انتظامات کے متعلق تفصیلات حاصل کی جانے لگی ہیں اور کہا جارہاہے کہ کھلے مقامات اور آلودگی سے پاک علاقوں کا رخ کرنے کی منصوبہ بندی بھی جا رہی ہے تاکہ سادہ آنکھ سے اس نادر فلکیاتی کا مظاہرہ کیا جاسکے کیونکہ شہری علاقو ںمیں فضائی آلودگی سے صاف نظارہ نہیں ہوگا۔