سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کی سیلاب متاثرین کو امداد

,

   


70 خاندانوں کی باز آبادکاری ، 8 لاکھ روپئے مالیتی سامان کی تقسیم
جناب زاہد علی خاں اور جناب افتخار حسین کی مثالی خدمات ، دونوں اداروں کے حق میں عوام کی دعائیں
حیدرآباد:۔ خدمت خلق سب سے بڑی عبادت ہے ۔ انسان جب مصیبتوں ، پریشانیوں ، آفات و ناخوشگوار حالات کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی رک سی جاتی ہے تو اس کے پاس سوائے دعا کے کوئی ہتھیار نہیں رہتا ۔ حالیہ عرصہ کے دوران آپ نے دیکھا کہ سیلابی بارش نے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ۔ کئی گھروں میں اموات کے باعث صف ماتم بچھ گئی ۔ ساز و سامان بارش کی نذر ہوجانے کے نتیجہ میں ہزاروں لوگوں کے ذرائع روزگار ختم ہوگئے ۔ ان حالات میں ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں کی قیادت میں سیاست ملت فنڈ اور جناب سید افتخار حسین کی قیادت میں فیض عام ٹرسٹ نے حرکت میں آتے ہوئے پریشان حال حیدرآبادیوں کی مدد کا بیڑہ اٹھایا ۔ ان کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی جن لوگوں کے کاروبار تباہ ہوگئے انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ پریشان حال عوام میں راحتی پیاکیجس اور کچن کٹس کی تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر کل مغل پورہ میں واقع منہاج القرآن اسکول میں سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے سیلابی بارش کے متاثرین میں زائد از 8 لاکھ روپئے مالیتی سامان تقسیم کیا گیا ۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ٹرسٹی ممبر ، جناب سید حیدر علی ، جناب عامر علی حیدر ارکان مجلس عاملہ ، جناب خلیل احمد (خلیل واچ کمپنی ) ریٹائرڈ جسٹس ای اسمعیل ، جناب ہبت اللہ سعید الدین ، جناب فیصل سبحانی ، جناب ہارون زئی اور منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر ہاشم آباد کے کفگیر نگر ، احمد کالونی ، بدا نگر ، الجبیل کالونی جیسے علاقوں کے کم از کم 70 خاندانوں کی باز آباد کاری کی گئی ۔ اس پروگرام میں مختلف کاروبار سے وابستہ لوگوں کو ان کے کاروباری سرگرمیوں کی مناسبت سے مدد کی گئی ۔ ایک متاثرہ نوجوان کو اپنے کاروبار کے لیے پرنٹر کی ضرورت تھی اسے پرنٹر دلایا گیا ، اسی طرح ایک مسجد کے حافظ صاحب کو زیراکس مشن فراہم کرتے ہوئے مدد کی گئی ۔ دو افراد کو اے سی ٹکنیشن کٹس دئیے گئے ۔ کچھ متاثرین کو الیکٹریکل گڈس ( برقی کا ساز و سامان ) فراہم کیا گیا ۔ کئی ایسے افراد بھی تھے جو کھلونوں کا کاروبار کرتے تھے ۔ انہیں کھلونے دلائے گئے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرسکیں ۔ بعض لوگوں کو کرانہ اور کنفکشنری سامان فراہم کیا گیا ۔ دو ایسے افراد بھی تھے جن کی اسٹیشنری ساز و سامان دلاتے ہوئے مدد کی گئی ۔ ایک صاحب کو ڈرل مشین ، ایک اور صاحب کو موٹر وائنڈنگ کا سامان دیا گیا ۔ ایک فرد کو جوتے چپلوں کی دکان لگا کر دی گئی ۔ ایک خاتون کو لڑکیوں کے ملبوسات ، لیگینگس ، ٹاپ ، ڈوپٹے دلائے گئے ۔ ایک متاثرہ شخص کو لگیج بیاگس وغیرہ فراہم کئے گئے ۔ ایک صاحب کو لڑکوں کے ٹریک سوٹس دلائے گئے ۔ دوسرے فرد کو ٹی شرٹس اور ٹریک سوٹس فراہم کئے گئے تاکہ وہ کاروبار کر کے اپنی زندگی کا سامان کرسکیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 19 مرد و خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم بھی عمل میں آئی جب کہ 8ٹھیلہ بنڈیوں پر ترکاری و پھلوں کی دکانات بھی لگا کر دی گئیں ۔ چار پھیری والوں کو نئی سیکلس اور نقد رقم دی گئی ۔ چار نوجوانوں کی موٹر سیکلس درست کروائی گئیں تاکہ وہ سامان کی ڈیلیوری کرسکیں ۔ چار آٹوز کی بھی مرمت کروائی گئی ۔ پانی پوری کا سامان بھی ایک صاحب کو دیا گیا ۔ ٹیلرنگ میٹریل کی بھی تقسیم عمل میں آئی ۔ اس کار خیر میں سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے والینٹرس سید عبدالستار ، محمد اعظم خاں ، شیخ اکرم ، محمد شریف ، محمد احمد ، حسیب خاں ، مکرم وغیرہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ متاثرین نے ان کی مدد کرنے پر سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کے ذمہ داروں کے حق میں دعا کی اور کہا کہ آج جناب زاہد علی خاں اور جناب افتخار حسین کے ساتھ ساتھ ان کے رفقاء سارے ملک میں مثال خدمات انجام دے رہے ہیں ۔۔