اقلیتی اقامتی اسکول جگتیال کا پرنسپل معطل ، انگلش ٹیچر بحال ، حالات سے واقفیت کے بعد ریاستی وزیر اور کلکٹر کی کارروائی
جگتیال : ضلع جگتیال کے اقلیتی اقامتی اسکول پرنسپل راکیش اور ایک نان ٹیچنگ ملازم معطل اور ایک ٹیچر کا تبادلہ کردیا گیا۔ واضح رہے کہ جگتیال اقلیتی اقامتی اسکول میں انگلش ٹیچر کو زچگی کیلئے رخصت حاصل کرنے پر پرنسپل کی جانب سے غیر انسانی رویہ اور رخصت کی منظوری کے بجائے ٹیچر کو استعفیٰ دینے یا ملازمت پر رجوع ہونے کی نوٹس روانہ کرنے پر ٹیچر کی جانب سے ٹمریز سے رجوع ہونے پر نوٹس واپس لے کر اسکول میں انگلش ٹیچر کی جائیداد مخلوعہ بتاکر ریاستی وزیر کی سفارش پر دوسرے ٹیچر کا تقرر کرتے ہوئے رخصت پر جانے والی ٹیچر کو بغیر اطلاع اس کو برخاست کرنے کی خبریں سیاست اخبار اور ٹی وی پر نشر ہوئیں جس کے بعد ٹیمریز سیکریٹری شفیع اللہ نے ویجیلینس ٹیم کو جگتیال روانہ کرتے ہوئے تحقیقات اور ضلع کلکٹر نے متعلقہ ڈپارٹمنٹ اقلیتی بہبود ضلعی آفیسر کو طلب کرتے ہوئے دریافت کیا اور ضلع کلکٹر جی روی نے انسانی بنیاد پر انگلش ٹیچر کو بحال کردیا۔ دوسرے ہی اسکول میں خدمات انجام دینے والی ریگیولر ٹیچر کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف تلگو اخبار ننادم کے مین ایڈیشن پر راست ایک خبر شائع ہوئی جس میں اسکول ٹیچر اور اس کے شوہر جو پیشہ سے صحافی ہیں ، اپنے شوہر کے بل پر اسکول میں اپنا اثر اور انتظامات میں مداخلت کرنے کے بے بنیاد الزامات کی خبر سے ٹیچر کے شوہر آندھرا جیوتی اسٹاف رپورٹر سینئر جرنلسٹ کے سرینواس نے اس خبر سے دلبرداشتہ ہوگئے اور اسی رات قلب پر حملہ سے انتقال ہوگیا جس پر اس کو ٹیچر نے ان کے شوہر کی موت کیلئے ذمہ دار اسکول پرنسپل راکیش اور کوآرڈینیٹر سرینواس اور جگتیال ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر اور ڈی ایل سی سرور میاں اور اخبار کے ایڈیٹر ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کر نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پولیس اور ٹیمریز سیکریٹری سے مطالبہ کیا اور میڈیا سے انصاف کی مانگ کی تھی۔ پرنسپل راکیش اور کوآرڈینیٹر سرینو نے تلگو اخبار میں راست خبر کو ٹیچر اور اس کے شوہر کے خلاف خبر شائع کروائے جس پر دوسرے ہی دن ٹیمریز کی ویجیلینس ٹیم شوکت اور اکرم الدین نے جگتیال پہنچ کر تحقیقات کی اور ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کپلہ ایشور نے صحافی کے ارتھی جلوس میں شرکت کیلئے جگتیال پہنچنے پر صحافیوں نے ویجیلینس ٹیم اور ریاستی وزیر کو حالات سے واقف کروایا اور اس میں ملوث پرنسپل اور دیگر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جس پر گزشتہ دو یوم قبل پرنسپل اور ایک نان ٹیچنگ ملازم کی معطلی کے احکامات جاری کئے۔ ریسیڈنشیل اسکولس میں مائناریٹی ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف برائے نام اقلیتی اسکولس پر اکثریتی فرقہ کا غلبہ طلبہ اور مائناریٹی اسٹاف تعصبیت کا شکار ہے ۔ اسکول میں اقلیتی طلباء کے داخلوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے مقصد سے دور اندیشی سے ایک ہی چھت کے نیچے طعام و قیام اور معیاری تعلیم کیلئے فی طالب علم ایک لاکھ 25 ہزار سالانہ خرچ کرتے ہوئے ریاست بھر میں 206 اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا جس میں 75% مسلم مائناریٹی طلبہ کیلئے کوٹہ مختص کیا گیا اور 25% دیگر طبقات کے طلبہ کیلئے مختص کیا گیا اور اس سال سے انٹرمیڈیٹ جونیر کالج کا بھی قیام عمل میں لاکر مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں جو قابل ستائش اقدام ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کے نام پر قائم کردہ اسکولس میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقرر مینارٹیز کو بھی 75% موقع فراہم کیا جاتا تو بہتر اور مناسب ہوتا لیکن یہاں پر اسٹاف میں میناریٹیز کا تقرر براے نام ہونے سے اور اکثریتی فرقہ کے غلبہ اور تعصب سے اولیا طلبہ اپنے بچوں کواقامتی اسکول میں شریک کروانے سوچنے پر ہے مجبورہیں جس کی وجہ سے مسلم اقلیتی طلبا کے داخلے مکمل نہیں ہورہے ہیں دیگر اسٹاف کی وجہ سے برایے نام مسلم اسٹاف بلکہ طلبا بھی تعصب کا شکار ہورہے ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول پرنسپل کا تبادلے کے باوجود وہ اپنے اثر رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے رجوع نہیں ہورہے ہیں۔