ریاستیں اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے شراب کی فروخت کو عار محسوس نہیں کرتی
حیدرآباد۔11مئی (سیاست نیوز) ملک بھر کی کئی ریاستوں میں شراب کی دکانات کھولے جانے کی مخالفت اور تائید یا اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک بھر میں موجود سیاسی جماعتوں کا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ تمام سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں ہیں تو شراب دوست پالیسی اختیار کرنے کے لئے تیار ہیں اور جب اپوزیشن میں ہیں تو وہ شراب کی فروخت کے آغاز کی مخالفت کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ایک پوسٹ میں ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود حکومتوں کے اقدامات اور شراب کی فروخت کے آغاز کے فیصلہ اور اس کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتو ںکا تذکرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا جا رہاہے کہ شراب کی فروخت کے لئے کون ذمہ دار ہے اور شرابیوں کی مدد کون کر رہا ہے۔دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کا فیصلہ کیا لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے شراب کی فروخت شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس فیصلہ کی کانگریس کی جانب سے شدت سے مخالفت کی جانے لگی اور یوگی حکومت کو نشانہ بنایا جانے لگا ۔پنجاب میں برسر اقتدار کانگریس حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کے آغاز پر عام آدمی پارٹی کی جانب سے حکومت پنجاب کے فیصلہ کی مذمت کی جانے لگی جبکہ دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔مہاراشٹرا میں شیو سینا کی زیر قیادت اتحاد کی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کے فیصلہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے اور کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے شراب کی فروخت کا فیصلہ کیا گیا ہے کرناٹک میں کئے گئے شراب کی فروخت کے فیصلہ کی کانگریس کی جانب سے شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر جو تبصرے کئے جا رہے ہیں ان میں کہا جار ہاہے کہ سیاست میں جس طرح کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اسی طرح شراب کا بھی کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور اس سے تمام ریاستی حکومتیں اپنی آمدنی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے میں عار محسوس نہیں کرتی بلکہ اگر کوئی اور جماعت کرتی ہے تو اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔