سرکردہ ملی و مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کا وقار متاثر ، سوشیل میڈیا پر پیامات سے ملت کی رسوائی
حیدرآباد۔19۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں انتخابات کے پیش نظر جاری سیاسی جماعتوں کی حمایت و مخالفت کے سلسلہ میں چلائے جانے والے پروپگنڈہ کا حصہ بنتے ہوئے سرکردہ ملی و مذہبی تنظیموں کے ذمہ داراپنا وقار کھونے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ اور فیس بک پر چلائے جانے والے بے بنیاد پروپگنڈہ کا شکار ہوتے ہوئے ان پیغامات کو اسی طرح سے پھیلانے کے عادی بننے والی شخصیات لااعتبار ہونے لگی ہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے پروپگنڈہ کے فروغ کے لئے اگر اس طرح اہم شخصیات اس کا شکار بننے لگتی ہیں تو ایسی صورت میں عام شہریوں کی کیا صورتحال ہوتی ہوگی اس کا بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ منظم تنظیموں کے قائدین کے واٹس ایپ پیغام کسی سیاسی جماعت کے فیصلہ پر تبصرہ اور وہ بھی بے بنیاد تبصرہ کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں شخصیت کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ شخصیت اقتدار سے مرعوب ہوچکی ہے۔ واٹس ایپ پر روانہ کئے جانے والے پیغامات کے سلسلہ میں اس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ان پیغامات کو آگے روانہ کرنے سے پہلے ان کی توثیق کرلینی ضروری ہے لیکن عام طور پر شہری ایسا نہیں کرتے مگر عوام کی قیادت کے مدعی قائدین کو چاہئے کہ وہ کسی بھی پیغام کو آگے روانہ کرنے سے پہلے اس کو اچھی طرح سے پڑھ لیں اور اس کو آگے پھیلانے کے نتائج کیا برآمد ہوں گے اس کا اندازہ کرتے ہوئے اسے وائرل کرنے کے لئے آگے روانہ کریں لیکن مکتوب موجود ہونے کے بعد اس کے برعکس تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہوئے روانہ کئے جانے والے پیامات شائد آگے جن کو موصول ہوئے ہیں وہ پڑھنے کے بعد سمجھ جائیں لیکن اس کے جو منفی اثرات ہوتے ہیں وہ عمومی طور پر بااثر لوگوں کے ریمارکس اور پیغام کو لیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں قوم کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد مبارک ہے جو کہ بخاری شریف اور مسلم شریف میں موجود ہے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ’’کسی شخص کا جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو آگے پہنچادے‘‘ اسی لئے کسی بھی بیغام کو روانہ کرنے سے پہلے کم از کم قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے موبائیل یا واٹس ایپ سے ایسے کوئی پیام روانہ نہ کریں جو کہ ملت کی رسوائی کا سبب بنیں اور ان کی حرکتوں سے سیاسی جانبداری نظر آئے اسی لئے انہیں محتاط رہنے کے ساتھ دور حاضر کے فتنوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔