سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز رہنے والا ٹرمپ ہوٹل بند

   

واشنگٹن : ڈونالڈ ٹرمپ اپنے واشنگٹن ہوٹل 12 منزلہ ٹاور کو ترک کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جہاں غیر ملکی عطیہ دہندگان، پریشر گروپس اور حکومتیں اس امید پر جمع ہوتی رہیں کہ وہ پیسے کے بل بوتے پرسابق امریکی صدر پر اثر و رسوخ حاصل کرلیں گے۔انیسویں صدی کی عمارت میں واقع ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کوچند ماہ بعد بند کر دیا جائے گا۔ 12 منزلہ عمارت جو 1890 میں بنائی گئی تھی بعد میں پوسٹ آفس میں تبدیل ہو گئی۔ یہ عمارت امریکی دارالحکومت کا تیسرا بلند ترین ٹاور ہے۔ٹرمپ نے 2011 میں عمارت کو منہدم ہونے سے بچایا جب انہوں نے اس کی مرمت اور تزئین و آرائش میں 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا۔ یہ ہوٹل ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے چند ماہ قبل 2016 کے موسم خزاں میں کھولا گیا تھا۔ٹرمپ کے ترجمان شان اسپائسر نے جنوری 2017 میں وائٹ ہاؤس میں صدر کی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ ہوٹل ’’ٹرمپ کے لیے بہت قابل فخر جگہ ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ اس قسم کی انتظامیہ کی نمائندگی کرتا ہے جس کی وہ سربراہی کرنے جا رہے ہیں۔