سیاسی دباؤ میں کام کرنے والے پولیس عہدیداروں کو ہریش راؤ کا انتباہ

   

بی آر ایس کی حکومت تشکیل پانے کے بعد ریٹائرڈ ہونے پر بھی کارروائی کرنے کا اعلان
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے فون ٹیاپنگ معاملے میں پولیس کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سازش کے تحت بی آر ایس قائدین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ایسے پولیس عہدیداروں کو چاہئے ریٹائرڈ ہوجائے یا سات سمندر پار بھی چھپنے کی کوشش کریں انہیں غیر قانونی اور جانبدارانہ کارروائیوں کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ ہریش راؤ نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی ایس آئی ٹی تحقیقات کے دوران پولیس کارروائیوں کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر سازشی مقدمات بنائے جارہے ہیں ۔ بعض ایسے پولیس عہدیداروں کو ایس آئی ٹی میں شامل کیا جارہا ہے ۔ جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں ۔ جو سراسر نا انصافی ہے ۔ ہریش راؤ نے اس معاملے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے بھی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ تمام حقائق سامنے آسکے ۔ انہوں نے پولیس کو نصیحت کی کہ وہ کسی سیاسی دباو کا شکار نہ ہو بلکہ قانون کے مطابق کام کریں کیوں کہ غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے کی ذمہ داری بالآخر متعلقہ پولیس عہدیداروں پر عائد ہوگی ۔ اس سے قبل جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن جانے کے بجائے بی آر ایس کے قائدین نے پولیس کے مبینہ مظالم کے خلاف سڑک پر احتجاج کیا جس میں سابق وزراء ہریش راؤ ، اے دیاکر راؤ ، کے ایشور سابق ارکان اسمبلی اے شنکر نائیک ، کرانتی کرن کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ احتجاج کے دوران ہریش راؤ نے پولیس کے رویے کی مذمت کی اور کہا کہ جانبدارانہ کارروائی کرنے والے پولیس عہدیداروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا ۔ ہریش راؤ نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کوئی جرم ہوا تھا تو اسی وقت مقدمات کیوں درج نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کے خلاف منفی تشہیر ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے ۔ مگر پارٹی کو کسی سازش سے ڈرایا نہیں جاسکتا ۔ اس لیے کے ٹی آر بلا خوف انکوائری میں شریک ہوئے ۔۔ 2