سیاسی فائدے کیلئے آر ٹی سی ملازمین سے کے سی آر کی جھوٹی ہمدردی: جیون ریڈی

   

کرایوں میں اضافے سے دستبرداری کا مطالبہ، نقصانات کے لیے حکومت ذمہ دار
حیدرآباد۔ 29 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن کونسل ٹی جیون ریڈی نے سوال کیا کہ کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین سے اس وقت ہمدردی کیوں نہیں جتائی جس وقت انہوں نے ہڑتال کی نوٹس دی تھی۔ 52 دنوں تک جاری رہی ہڑتال میں 30 سے زائد ملازمین کی موت واقع ہوئی اور تنخواہوں سے محرومی کے سبب ملازمین معاشی پریشانیوں کا شکار ہوئے لیکن کے سی آر نے کوئی ہمدردی نہیں کی۔ اب جب کہ آر ٹی سی ملازمین نے اپنے طور پر ہڑتال ختم کردی لہٰذا سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر ملازمین سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ کے سی آر آج آر ٹی سی ملازمین کو اپنے بچے قرار دے رہے ہیں لیکن ان کی پریشانی کے وقت یاد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے دن ہی کے سی آر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے تو 52 دنوں تک ہڑتال نہ ہوتی اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کو ڈیوٹی پر رجوع ہونے کی اجازت دیتے ہوئے بس کرایوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ اضافہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بس کرایوں میں اضافے سے آر ٹی سی کو روزانہ 2.98 کروڑ کی آمدنی ہوسکتی ہے اور سالانہ 100 کروڑ سے زائد کی آمدنی ہوگی۔ دیہی علاقوں میں چلنے والی بسوں کے کرایوں میں 32 فیصد کا اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں سے آر ٹی سی کے خسارے کے لیے چیف منسٹر کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ ہڑتال کے دوران خودکشی اور قلب پر حملے سے ہوئی اموات کے لیے بھی چیف منسٹر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر ریاستوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے پڑنے والے اضافی بوجھ کو وہاں کی حکومتوں نے برداشت کیا ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے آر ٹی سی پر بوجھ عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل تک کے سی آر آر ٹی سی روٹس کو خانگیانے کا اعلان کررہے تھے لیکن اچانک ملازمین کی ہمدردی میں یہ تاثر دیا گیا کہ خانگیانے کا مطلب ملازمین کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش حکومت سے سبق لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جگن موہن ریڈی حکومت میں نہ صرف آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا بلکہ ملازمین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی ہے۔ آر ٹی سی یونینوں کے خلاف چیف منسٹر کی بیان بازی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یونینوں کے عدم وجود کا اعلان کریں۔ اگر دسہرے سے قبل آر ٹی سی ملازمین کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا جاتا تو ہڑتال کی نوبت نہ آتی۔ کے سی آر خود کو عوام کے منتخب کردہ چیف منسٹر نہیں بلکہ ایک بادشاہ کی طرح تصور کررہے ہیں اور ڈکٹیٹرشپ پر عمل پیرا ہیں۔ جیون ریڈی کے مطابق انٹلیجنس نے چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی کہ اگر آر ٹی سی ملازمین کو برطرف کیا گیا تو حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا لہٰذا چیف منسٹر نے اپنے قدم واپس لے لئے۔ مجوزہ بلدی انتخابات میں عوام کی مخالفت کے خوف سے کے سی آر نے ملازمین کے حق میں اعلانات کئے ہیں۔ جیون ریڈی نے آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافے کے اعلان سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ خسارے کے نام پر عوام پر بوجھ عائد نہیں کیا جاسکتا۔ آر ٹی سی میں غریب و متوسط طبقات سفر کرتے ہیں لہٰذا کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک ملازمین کے افراد خاندان میں سے کسی ایک کو ملازمت ان کا بنیادی حق ہے لیکن کے سی آر ایک احسان کے طور پر اس کا اعلان کررہے ہیں۔ جیون ریڈی نے کہا کہ سرکاری ملازمین سے کے سی آر کو ہمدردی کیوں نہیں۔ آج تک پی آر سی کا اعلان نہیں کیا گیا اور پی آر سی رپورٹ میں تاخیر کی جارہی ہے۔ جیون ریڈی نے این جی اوز تنظیموں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ این جی اوز قائدین اپنے حقوق کے لیے آگے آئیں۔