آرٹیکل 370 کی بحالی تک انتخابات نہیں لڑیں گے ،بلدی نتائج حوصلہ افزاء
نئی دہلی : جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے آج بی جے پی کو چیلنج کیا کہ اگر اس میں دم ہے تو وہ ان کے ساتھ سیاسی مقابلہ کرے۔ این آئی اے یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ کرے۔ میرے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت اور بی جے پی سے خاص طور پر کہتی ہوں کہ اگر اس کے پاس جرأت ہے تو وہ مجھ سے سیاسی میدان میں مقابلہ کرے۔ جموں کشمیر کے مقامی بلدیات کے انتخابی نتائج کو ’’نہایت حوصلہ افزاء‘‘ قرار دیتے ہوئے سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ آرٹیکل 370 کی بحالی تک کوئی انتخاب نہیں لڑیں گی۔ کشمیر کو جب تک خصوصی موقف نہیں دیا جاتا ان کا انتخابات میں حصہ لینا خارج از امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی انتخابات کا وقت آئے گا میں اس وقت تک کسی بھی انتخابات میں پرچہ نامزدگی داخل نہیں کروں گی تاوقتیکہ جموں کشمیر کے دستور کو واپس نہیں لایا جاتا اور آرٹیکل 370 کو بحال نہیں کیا جاتا۔ سابق چیف منسٹر نے گپکار اتحاد پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہ اگر ریاستی انتخابات کا انعقاد عمل میں آئے تو چیف منسٹر کے امیدوار کیلئے مخالفتوں کا آغاز ہوگا۔ ہم ایک دوسرے کے قریب ضرور ہیں لیکن جب جموں کشمیر کے سب سے بڑے کاز کی بات آتی ہے تو ہم متحد ہوسکتے ہیں۔ گپکار اتحاد میں نیشنل کانفرنس کے علاوہ محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر پارٹیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے کشمیر کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ کشمیر کی تمام پارٹیاں بالآخر کشمیریوں کی ہیں۔ یہ تمام پارٹیاں آخر میں اپنی ریاست کیلئے جدوجہد کریں گی۔ میں کسی انتخابات کے بارے میں بات نہیں کررہی ہوں بلکہ کشمیر کے موقف کو بحال کرنے کے سلسلہ میں بات کررہی ہوں جسے ہم نے کھو دیا ہے۔ جب کبھی اسمبلی انتخابات ہوں گے کشمیر کی تمام پارٹیاں مل بیٹھ کر چیف منسٹر کے عہدہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ میں اس دوڑ میں شامل نہیں ہوں۔
انہوں نے اپنے مرحوم والد مفتی محمد سعید کے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے فیصلہ کی مدافعت کی ۔ میرے والد نے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا لیکن میں نے نریندر مودی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا بلکہ وزیراعظم ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے تاکہ کشمیر کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔