سیاسی پارٹیوں کے سیکولرازم کی جانچ ، رائے دہندوں کی گہری نظر

,

   

رائے دہندے سابق کے مقابلہ زیادہ باشعور ، مسلمانوں کے بغیر سیاسی تائید ناممکن ، کرناٹک کے تجربہ کو دہرانے مسلمانوں کا عزم
حیدرآباد۔/15 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے رائے دہندے سیاسی پارٹیوں کے سیکولرازم کی جانچ میں مصروف ہیں تاکہ 30 نومبر کو رائے دہی کے موقع پر تائید کا فیصلہ کیا جاسکے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں بھی تلنگانہ کے 10 اضلاع ہمیشہ ہندو۔ مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت رہے ہیں۔ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد دس برسوں میں عوام نے مذہبی رواداری کا غیر معمولی مظاہرہ کیا اور تلنگانہ کو فسادات سے پاک رکھا۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس حکومت کی 10 سالہ کارکردگی کا کٹھن امتحان ہے اور بی آر ایس قیادت کو یہ باور کرانے میں دشواری ہورہی ہے کہ آئندہ بی جے پی کے ساتھ کوئی دوستی یا مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ سابقہ تجربات کی بنیاد پر تلنگانہ کے سیکولر رائے دہندے اور خاص طور پر مسلم رائے دہندے بی آر ایس کے دعوؤں پر یقین کرنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ مسلمان تلنگانہ میں بادشاہ گر کے موقف میں ہیں اور 40 سے زائد اسمبلی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی تائید کے بغیر کسی بھی امیدوار کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے مسلم رائے دہندوں نے جس طرح منظم حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے کانگریس کے اقتدار کو واپس لانے میں اہم رول ادا کیا ٹھیک اسی طرح تلنگانہ کے مسلم رائے دہندے اس مرتبہ اپنے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا من بناچکے ہیں۔ گذشتہ دو انتخابات میں مسلم رائے دہندوں نے کانگریس کے کمزور موقف کے سبب بی آر ایس کو ترجیح دی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے اور دونوں کی نظریں مسلم رائے دہندوں پر ہیں۔ مسلمانوں کا رجحان کانگریس کی طرف دیکھتے ہوئے بی آر ایس قائدین نے مسلمانوں کو ہمنوا بنانے کیلئے سیکولرازم اور اقلیت دوستی کے ثبوت پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ کانگریس نے مسلم رائے دہندوں میں یہ اندیشہ کامیابی کے ساتھ سرایت کردیا ہے کہ بی آر ایس کبھی بھی بی جے پی کے ساتھ جاسکتی ہے۔ بی آر ایس کا گذشتہ دس برسوں میں ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو مرکز میں بی جے پی کی تائید کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی قیادت صاف لفظوں میں معلق اسمبلی کے امکانات ظاہر کررہی ہے اور ایسی صورت میں بی آر ایس اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں۔ جہاں تک مرکز میں نریندر مودی حکومت کی تائید کا سوال ہے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے حال ہی میں دو ٹی وی انٹرویوز میں اعتراف کیا کہ مرکز میں کئی امور پر بی جے پی کی تائید کی گئی تھی۔ سوشیل میڈیا میں وائرل کے ٹی آر کے انٹرویو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ بی آر ایس نے بعض مسائل پر بی جے پی کی مدد کی تھی۔ نوٹ بندی، صدر جمہوریہ کا الیکشن، جی ایس ٹی اور کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کی برخواستگی کے معاملہ میں بی جے پی کی تائید کی گئی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ یہ ایک حقیقت اور سچائی ہے کہ ہم نے مذکورہ مسائل پر بی جے پی کی مدد کی تھی۔ اس اعتراف کے ساتھ ساتھ کے ٹی آر اور ہریش راؤ عام جلسوں میں مسلمانوں سے وعدہ کررہے ہیں کہ مستقبل میں بی جے پی سے دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سوشیل میڈیا میں تلگو فلمی نغمہ ’’ دوست میرا دوست ‘‘ کے بیاک گراؤنڈ میں کے ٹی آر کا بیان اور نریندر مودی سے کے سی آر کی خوشگوار ملاقاتوں کی تصاویر وائرل کی جارہی ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر اضلاع میں انتخابی ریالیوں سے خطاب کے دوران جہاں کہیں بھی مسلمان نظر آئیں یہ اعلان کررہے ہیں کہ جب تک میں زندہ رہوں گا تلنگانہ سیکولر ریاست بنی رہے گی۔ اس مرتبہ رائے دہندے سابق کے مقابلہ زیادہ باشعور ہیں اور وہ بی آر ایس قیادت کے دعوؤں پر بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعلیٰ قیادت سے زیادہ سیکنڈ کیڈر لیڈر شپ مسلمانوں کو بھروسہ دلانے میں پیش پیش ہے کہ قیادت مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ دوستی نہیں کرے گی۔ یہ اقلیتی قائدین وہ ہیں جو گذشتہ دس برسوں کے دوران کسی سرکاری عہدہ کے حصول کیلئے قیادت کے در کی خاک چھانتے رہے لیکن انہیں رسائی تک حاصل نہیں ہوئی۔

موجودہ عہدوں پر موجود قائدین اپنی کرسی بچانے اور دوسرے کرسی کی لالچ میں مسلمانوں کو جھوٹی تسلی دے رہے ہیں۔ عام مسلمانوں کا یہ سوال ہے کہ دس سالہ تجربہ کی بنیاد پر اس بات کی کیا گیارنٹی ہے کہ بی آر ایس مستقبل میں بی جے پی سے دوستی نہیں کرے گی۔ سابق میں بھی مسلمانوں کو بی جے پی سے دوستی نہ کرنے کا بھروسہ دلایا گیا تھا لیکن نتیجہ کچھ اور ہی نکلا۔ دیکھنا یہ ہے کہ رائے دہندوں پر کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے تیقن کا کیا اثر پڑے گا۔