سیاہ زرعی قوانین کیخلاف نارائن پیٹ میں کسانوں کی گھن گرج

   

Ferty9 Clinic


حکومت کا جارحانہ رویہ ہمارے عزائم کو کمزور نہیں کرسکے گا، ریالی سے مختلف قائدین کا خطاب

نارائن پیٹ : آل انڈیا رعیتو کولی سنگم و دیگر کسان تنظیموں اور بائیں بازو جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے نارائن پیٹ ضلع مستقر پر عظیم الشان پیمانے پر کسان گرجنا جلسہ عام و زبردست ریالی کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں کسانوں نے اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ شرکت کی۔ یہ ریالی سبھاش روڈ سے نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے تلنگانہ چوراہا پر جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔ نارائن پیٹ ٹاؤن کے چوراہوں اور سڑکوں کو لال پرچموں سے سجایا گیا تھا۔ جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے آل انڈیا رعیتو کولی سنگم کے قومی نائب صدر چلپتی راؤ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے جلسہ عام میں شرکت کرتے ہوئے کہاکہ مرکز کی مودی حکومت کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں کسانوں کی زمینات کو رہن رکھ دیا ہے۔ ملک کے عوام کو کھانا فراہم کرنے والے کسانوں کے ساتھ مودی حکومت کا معاندانہ رویہ سرمایہ دارانہ نظام کو ملک میں نافذ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ غریبوں کا خون چوسو اور ساہوکاروں کے جیب بھرو کی پالیسی ملک کے لئے بدشگونی کی علامت ہے۔ انھوں نے کہاکہ 60 دنوں سے مسلسل احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ حکومت کا جارحانہ رویہ اور ان پر غلط الزامات لگاکر انھیں کمزور کرنے کی کوششوں سے کسانوں کے عزائم اور بلند ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ 26 جنوری یوم جمہوریہ کے دن کسان ضرور ٹریکٹر ریالی کے ساتھ دہلی کے پریڈ گراؤنڈ میں شرکت کریں گے۔ دہلی کی سرحدوں پر منفی ڈگری سردی بھی اِن کسانوں کے عزائم کو کمزور نہیں کرپائے گی۔ ماہر معاشیات چندرشیکھر راؤ نے کہاکہ کسانوں کے خلاف وضع کردہ تین سیاہ زرعی قوانین کسی صورت میں نافذ نہیں ہونے دیں گے اور سیاہ قانون سے نہ صرف کسان کمزور ہوں گے بلکہ ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ اس جلسہ عام اور ریالی میں سی پی آئی ایم، سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی، پی وائی ایل، پی او ڈبلیو کے ریاستی سطح کے قائدین اور ہزاروں کسانوں نے شرکت کی۔