نئی دہلی : کسانوں کا گروپ گذشتہ شب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد اب دہلی ۔ ہریانہ کی کسی ایک سرحد پر ملاقات کررہی ہے ۔امیت شاہ سے بات چیت کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا کیونکہ فریقین اپنے اپنے موقف پر اٹل رہے ۔ آج وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے ساتھ ملاقات کو اہم سمجھا جارہا تھا اور کسانوں کا احتجاج جب سے شروع ہوا ہے اس کے بعد سے آج تک یہ چھٹویں بات چیت تھی جسے منسوخ کردیا گیا ۔ کسان قائدین سے حکومت کے زرعی قوانین میں ترمیم کرنے کی پیشکش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ وہ ( کسان) سیاہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے سوائے کسی دوسری پیشکش کو نہیں مانیں گے ۔
احتجاجی کسانوں سے متعلق 10نکات اہمیت کے حامل
1۔ ذرائع کے مطابق تجویز کو آج کسان قائدین کے پاس بھیجا جائے گا جس میں حکومت کی جانب سے ترمیم کا تذکرہ موجود ہوگا ۔ حکومت اس بات کا تیقن دے گی کہ کسانوں کیلئے ایم ایس پی ( اقل ترین سپورٹ قیمت) کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے جاری رکھا جائے گا جبکہ منڈل سسٹم میں نمایاں تبدیلیاں کی جائیں گی جن پر اے پی ایم سی ( اگریکلچر پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی) لاء میں ترمیم بھی شامل ہے ۔ درشن پال نامی ایک کسان نے دریں اثناء کہا کہ اب تک انہیں ایسی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے ۔(2) کسانوں کی میٹنگ سنگھو سرحد پر ہورہی ہے جہاں ہزاروں کسان گذشتہ 14دنوں سے موجود ہیں ۔ اس موقع پر بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے بتایا کہ اس معاملہ ( مرکزی تجویز) پر ہم اپنی حکمت عملی تیار کریں گے ۔کسان واپس نہیں جائیں گے کیونکہ یہ ان کی عزت کا سوال ہے ۔ اگر حکومت اپنی ضد پر اٹل ہے تو کسان بھی ضدی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کو ہر حال میں منسوخ کرنا ہوگا ۔ (3) حکومت سے یہ خواہش بھی کی جارہی ہے کہ وہ مجوزہ برقی( ترمیمی) بل 2020ء سے دستبرداری اختیار کرلے جو کسانوں کے مطابق ان کے خلاف ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے قبل ازیںیہ وضاحت کی تھی کہ یہ تجویز برقی تقسیم کرنے والوں پر نظر رکھنے کیلئے ہے جبکہ حکومت کے پاس کسی بھی تنازعہ کی یکسوئی کیلئے عدالت عالیہ سے رجوع ہونے کا متبادل بھی موجود ہے ۔(4) اب جبکہ کسانوں نے قومی دارالحکومت کے مصروف ترین پوائنٹس پر دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے دہلی ۔ ہریانہ کے تین سرحدی پوائنٹس کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیاہے ۔ سرحدی علاقوں کے علاوہ دہلی کے ایک ایسے گراؤنڈ پر جسے احتجاجی مظاہروں کیلئے مختص کیا گیا ہے وہاں بھی احتجاج جاری ہے ۔(5) کسانوں کے احتجاج کے آغاز سے اب تک کم و بیش پانچ اموات رپورٹ کی گئی ہیں ۔ دہلی ۔ ہریانہ سرحد کے قریب ایک 32سالہ کسان منگل کے روز مردہ پایا گیا تھا جس کی اجئے مورے کی حیثیت سے شناخت عمل میں آئی اور اس کی موت ہائپو تھرمیا کی وجہ سے واقع ہوئی ۔(6) چوبیس سیاسی جماعتوں کے نمائندے آج صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گے جن میں راہول گاندھی ، شردپوار ، سیتارام یچوری اور ڈی راجہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔(7) جن اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کی مخالفت کی تھی انہوں نے قبل ازیں صدر جمہوریہ سے یہ کہہ کر درخواست کی تھی کہ بلوں پر دستخط نہ کریں کیونکہ ان بلوں کو راجیہ سبھا میں غیر جمہوری طور پرمنظور کیا گیا تھا تاہم صدر جمہوریہ نے تینوں زرعی قوانین کو اپنی منظوری دی تھی ۔(8) گذشتہ شب امیت شاہ اور کسانوں کے 13 قائدین کے درمیان ہوئی بات چیت کے دوران یہ طئے پایا کہ زرعی قوانین میں جن ترمیمات کا حکومت ارادہ رکھتی ہے اس کا مسودہ کسان قائدین کو روانہ کیا جائے گا ۔ (9) کسانوں کے قائد درشن پال ہیں جس پر ہم نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ زرعی قوانین کو منسوخ کردیا جائے ۔ امیت شاہ نے ان شقوں کو پیش کیا جن پر ہم راضی نہیں تھے اور کہاکہ ان میں ( شقوں) ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ (10) یاد رہے کہ ہزاروں کسان جو گذشتہ دو ہفتوں سے شدید سردی میں آبی توپوں، آنسو گیس اور پولیس کی رکاوٹوں کا سامنا کررہے ہیں ، صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت درمیان آدمی کا عمل دخل ختم کردے اور انہیں ( کسان) یہ اجازت دے کہ وہ اپنی فصل ملک میںکہیں بھی فروخت کرسکیں ۔ کسانوں کا یہ ماننا ہے کہ نئے زرعی قوانین سے وہ حکومت کی جانب سے مختص کردہ نہ صرف اقل ترین سپورٹ قیمت سے محروم ہوجائیں گے بلکہ وہ کارپوریٹس کے رحم و کرم پر ہوجائیں گے ۔