منیا پولیس ‘ ٹولسا ‘ فلاڈلفیا ‘ لاس اینجلس ‘ نیویارک اور کئی شہروں میں مظاہرے
پولیس کی گاڑیاں نذر آتش۔ سینکڑوں افراد گرفتار۔کئی مقامات پر کرفیو نافذ
آنسو گیس کے شیلس برسائے گئے ۔ وائیٹ ہاوز کے باہر سخت سکیوریٹی انتظام
منیا پولس ( امریکہ ) 31 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ اور دوسروں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد زبردست احتجاج شروع ہوچکا ہے ۔ یہ مظاہرے نیویارک سے ٹولسا اور پھر لاس اینجلس تک پھیل گئے ہیں۔ کئی مقامات پر احتجاجیوں کی جانب سے پولیس کی کاروں کو نذر آتش کردیا گیا اور مختلف مقامات پر ان احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ کی اطلاعات ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ہفتے کو دن بھر اور رات دیر گئے تک یہ احتجاجی مظاہرے چلتے رہے اور ان شہروں کے عوام نے کشیدہ ماحول میںرات گذاری ۔ کہا گیا ہے کہ کئی ماہ کے کورونا وائرس لاک ڈاون کے بعد جب حالات قدرے معمول پر آنے لگے تھے یہ سیاہ فام باشندہ کی ہلاکت نے سارے ماحول کو درہم برہم کردیا ۔ اصل واقعہ منیا پولیس میں پیش آیا تھا جہاں جارج فلائیڈ نامی شخص اس وقت ہلاک ہوگیا تھا جب ایک پولیس عہدیدار نے اس کی گردن پر گھٹنا ٹیک دیا تھا اور اسوقت تک دباو جاری رکھا جب تک فلائیڈ کی سانس نہیں رک گئی ۔ اس واقعہ کے بعد منیا پولیس شہر میں احتجاج شروع ہوگیا تھا ۔ کئی مقامات پر عمارتوں کے شیشے توڑ دئے گئے ۔ انہیں نذر آتش کردیا گیا اور دوکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی ۔ اس کے بعد سے سارے امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی کئی برسوں کے دوران ہونے والی اس طرح کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے کورونا وائرس کی احتیاط کے پیش نظر نہ ماسک پہنا تھا اور نہ سماجی دوری کے قاعدہ کی پابندی کی تھی ۔
اس طرح کے واقعات سے محکمہ صحت کے ماہرین ملک میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے پھیلنے کے اندیشوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ اندیشے ایسے وقت میں پیدا ہوئے ہیں جب کورونا وائرس لاک ڈاون کے بعد ملک میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جمعہ کو شدت کے مظاہروں کے بعد مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے باشندے ہفتے کو بھی ایک بار پھر سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے امریکہ کے درجنوں شہروں میں احتجاج کیا ۔ رینو سٹی ہال میں احتجاجیوں نے آگ لگادی جبکہ شمالی ڈکوٹا فارگو شہر میں پولیس کو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیلس برسانے پڑے ۔ اس کے علاوہ رچمنڈ ورجینیا کے پولیس ہیڈ کوارٹرس میں بھی کھڑکیوں کو توڑ دیا گیا ۔ انڈیانا پولس میں پولیس کی جانب سے کچھ مقامات پر فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ ان واقعات میں ایک شخص کے مرنے کی اطلاع ہے ۔ پولیس نے اس واقعہ کی کچھ تفصیل بتائی تاہم کہا کہ کوئی عہدیدار اس میں ملوث نہیں ہے ۔ واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کو وائیٹ ہاوز کے باہر متعین کردیا گیا ہے جہاں نعرے لگاتے ہوئے ہجوم نے پولیس کے خلاف مظاہرے کئے ۔ یہاں ہجوم سے کچھ ہی دوری پر بھاری تعداد میں پولیس فورس کو متعین کردیا گیا ہے تاکہ احتجاجیوں کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے ۔ فلاڈلفیا میں پرامن احتجاجی اچانک تشدد پر اتر آئے جس کے نتیجہ میں کم از کم 13 پولیس عہدیدار زخمی ہوگئے اور پولیس کی کم از کم چار گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا ۔ زیریں شہر میں کچھ اور مقامات پر بھی آگ زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ سالٹ لیک سٹی میں احتجاجیوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور اوٹاہ گورنر نے وہاں نیشنل گارڈ کے دستوں کو متعین کردیا ہے ۔
احتجاجیوں نے یہاں ایک پولیس کار کو الٹ دیا اور آگ لگادی ۔ دوسری گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ اس سلسلہ میں چھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور ایک پولیس عہدیدار زخمی ہوا ہے ۔ لاس اینجلس میں احتجاجیوں نے ’’ سیاہ فام کی زندگیاں بھی اہم ہیں ‘‘ کے نعرے لگائے کچھ مقامات پر احتجاجیوں اور سکیوریٹی دستوں میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا گیا ۔ ابتدائی ایام میں احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کرنے والی پولیس اب کچھ مقامات پر طاقت کا استعمال کرنے لگی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جمعرات کے بعد سے امریکہ کے 16 شہروں میں جملہ 1,300 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ 500 افراد کو جمعہ کو لاس اینجلس میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کو کئی چینلس پر راست نشر کیا جا رہا ہے ۔