سیاہ قوانین پر مجلس خاموش ، مسلمان پریشان

,

   

سیاسی میچ فکسنگ یا سیاسی مجبوری ، عوام میں تشویش
حیدرآباد۔/29 فبروری، ( سیاست نیوز) شہریت ترمیمی قانون این آر سی اور این پی آر کے خلاف ریاست بھر میں مسلمان احتجاج کررہے ہیں لیکن مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت کی بے حِسی نے ان اندیشوں کو تقویت دی ہے کہ کے سی آر سے ملی بھگت کے ذریعہ تلنگانہ میں احتجاج کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کے سی آر نے ابھی تک سیاہ قوانین کے سلسلہ میں واضح موقف کا اعلان نہیں کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے خواہش کی گئی کہ وہ شہریت قانون سے دستبرداری اختیار کرے۔ کے سی آر مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ انہوں نے قرارداد میں شہریت قانون کی مخالفت کا ذکر کئے بغیر قانون سے دستبرداری کی اپیل کی اور اسی طرح کی قرارداد اسمبلی کے مجوزہ بجٹ سیشن میں منظور کرنے کا منصوبہ ہے۔ کے سی آر نے عوامی سطح پر این پی آر اور این آر سی کی مخالفت میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ اپنے دفتر کے ذریعہ اخبارات کو اطلاع دی گئی کہ چیف منسٹر این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہیں اور ریاست میں عمل آوری نہیں ہوگی۔ گزشتہ دو ماہ سے عوام سڑکوں پر ہیں لیکن نہ ہی حکومت اور نہ اس کی حلیف جماعت نے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔ حکومت کی حلیف جماعت نے مذہبی قائدین کے ساتھ چیف منسٹر سے ملاقات کی تھی اس کے بعد سے کوئی پہل نہیں کی گئی تاکہ چیف منسٹر پر دباؤ بنایا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجلس کی قیادت کو ریاست کے باہر دیگر علاقوں میں احتجاجی جلسوں میں شرکت کیلئے وقت ہے لیکن خود حیدرآباد میں وہ عملاً خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ضابطہ کی تکمیل کیلئے دو احتجاجی جلسے منعقد کئے گئے۔ تمام بڑے شہروں میں شاہین باغ طرز پر احتجاج جاری ہے لیکن حیدرآباد میں اس کی اجازت نہیں۔ پولیس اور حکومت سے ملی بھگت کے ذریعہ مسلم تنظیموں اور اداروں کو احتجاجی جلسوں اور دھرنے کے اہتمام کی اجازت سے انکار کیا جارہا ہے۔ مجلس نہ ہی خود احتجاج کرتی ہے اور نہ دوسروں کو اس کی اجازت دے رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیادت کو پیروں تلے زمین کھسکنے کا خوف لاحق ہوچکا ہے۔ اگر دیگر جماعتیں احتجاج کی قیادت کریں تو شہر میں مقامی جماعت کو نقصان ہوسکتا ہے لہذا حکومت کو خوش کرنے کیلئے نہ ہی خود میدان میں ہیں اور نہ دوسروں کو آنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ مجلس کے صدر ملک کے دیگر علاقوں میں احتجاجی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں لیکن انہیں چیف منسٹر سے ملاقات کی توفیق نہیں تاکہ این آر سی اور این پی آر کے مسئلہ پر واضح موقف کا اعلان کرسکیں۔ کے سی آر ایک شاطر سیاستداں ہیں اور وہ سیاسی فائدہ کیلئے حلیف جماعت کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ وہ ایک طرف بی جے پی کو ناراض کرنا نہیں چاہتے تو دوسری طرف مسلم ووٹ بینک برقرار رکھنے کی فکر میں ہیں۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی کی احتجاج سے دوری پر عوام کے ذہنوں میں مختلف سوالات اُبھررہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک بھی احتجاجی پروگرام میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اس مسئلہ پر عوام کے درمیان تقریر کی۔ عوام کا تاثر ہے کہ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اکبر اویسی کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے لیکن شاید انہیں اسمبلی اجلاس کا انتظار ہے جہاں اپنی شعلہ نوائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر سے کچھ نہ کچھ تیقن حاصل کریں گے۔