بند کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش ناکام، دستور کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھنے عوام کا عزم، کسی کے فیصلہ کا انتظار نہیں
حیدرآباد۔29 جنوری(سیاست نیوز) ملک بھر میں سی اے اے ‘این آر سی ‘ این پی آر کے علاوہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے منائے جانے والے بند میں تاجرین حیدرآباد اور تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکردہ بازاروں نے بھر پور حصہ لیتے ہوئے کامیاب بنایا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بند کی اپیل پر کسی نام نہاد سرکردہ سیاسی یا مذہبی تنظیم کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا تھا لیکن شہریان حیدرآباد میں رضاکارانہ طور پر اس بند میں حصہ لیتے ہوئے اسے کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں نامپلی ‘ ٹولی چوکی ‘ سعید آباد‘ ملک پیٹ‘ پتھر گٹی ‘ عنبر پیٹ کے علاوہ دیگر علاقوں میں بند مکمل رہا اور تاجرین نے اپنے تجارتی اداروں کے باہراین آر سی ‘ سی اے اے ‘ این پی آر کے علاوہ ای وی ایم کے خلاف پلے کارڈس لگائے۔دونوں شہرو ںمیں بند کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا لیکن اس بند کے دوران بعض مقامات پر سیاسی دباؤ کے ذریعہ تجارتی ادارو ںکو کھلوانے کی کوشش کی گئی تاکہ بند کے اثرات کو زائل کیا جاسکے کیونکہ اس بند کو کسی سیاسی جماعت یا نام نہاد مذہبی ٹولہ کی تائید حاصل نہیں تھی۔ اسی لئے اس بند کو ناکام بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ لیکن اس میں ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت مکتی مورچہ کی جانب سے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوںکے خلاف بند کا اعلان کیا گیا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ آرایس ایس کی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والوں کی جانب سے اس کی تائید نہیں کی گئی ۔کنگ کوٹھی موٹر مارکٹ،جگدیش مارکٹ‘ ملے پلی ‘نامپلی‘مہدی پٹنم‘ ٹولی چوکی کے علاوہ دیگر علاقوں میں تجارتی اداروں اور تعلیمی اداروں کو بند رکھے جانے کے سبب سڑکوں پر سناٹا دیکھا گیا
اور بعض مقامات پر تاجرین نے اپنے تجارتی ادارو ںکو بند رکھتے ہوئے احتجاج میں شامل رہے اور اپنی ہی دکانوں کے سامنے احتجاج کیا ۔محکمہ پولیس کی جانب سے شہر حیدرآباد کے کئی اہم چوراہوں پر پولیس پکیٹ تعینات کئے گئے تھے تاکہ کسی بھی طرح کی ہنگامہ آرائی یا بدنظمی کی صورت میں حالات پر فوری قابو پایا جاسکے۔شہر حیدرآباد میں کئی ہوٹل مالکین نے بھی رضاکارانہ طور پر اس بند میں حصہ لیا ۔تالاب کٹہ‘ عیدی بازار ‘ سنتوش نگر‘ مادنا پیٹ کے علاقوں میں بھی تجارتی ادارے اور تعلیمی ادارے بند رکھے گئے۔ شہر حیدرآباد میں بھارت بند کے ملے جلے اثرات دیکھے گئے کیونکہ بعض مقامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے نظریات کے حامیوں کی جانب سے بند میں حصہ نہیں لیا گیا بلکہ بند کو ناکام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن اس کوشش میں ان گروہوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی بند کے کامیاب رہنے کی اطلاع ہے اور کہا جا رہاہے کہ قومی سطح پر بند کی اپیل کرنے والوں اور دہلی میں احتجاج میں شامل رہنے والوں میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والوں کی بھی بڑی تعداد شامل رہی اور جنتر منتر و شاہین باغ میں بھی حیدرآباد کی جامعات اور تنظیموں کے ذمہ دار موجود تھے۔ بھارت مکتی مورچہ کی جانب سے طلب کئے گئے اس بند کو دلت‘ پسماندہ طبقات ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی کے علاوہ اقلیتوں کی مکمل تائید حاصل تھی جس کے نتیجہ میں یہ بند بڑی حد تک کامیاب تصور کیا جارہاہے۔ شہر حیدرآباد میں اب تک مخصوص ٹولہ کی جانب سے بند یا احتجاج کا سہرا یا کامیابیوں کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد شہریان حیدرآباد نے اپنے طور پر صحیح اور غلط کی تمیز کرنی شروع کردی ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے لگے ہیں،اس ماہ کے پہلے ہفتہ میں ملین مارچ ہی تازہ مثال ہے۔شہر حیدرآباد میں بند کے دوران مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے عوام نے حکومت سے فوری سی اے اے ‘ این پی آر اور این آر سی کے علاوہ ای وی ایم سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا اور الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کے ذریعہ کامیاب ہونے والے افراد کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ’’ای وی ایم ہٹاؤ دیش بچاؤ‘ مودی ہٹاؤ جمہوریت بچاؤ ‘‘کے علاوہ شہر کے کئی مقامات پر مخالف این آر سی ‘ این پی آر اور سی اے اے نعرے لگائے گئے اور احتجاجیوں نے دستور کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔