وزیراعظم مودی، سیبی چیئرمین یا اڈانی میں سے کون ذمہ دار ، اپوزیشن لیڈرکا سوال
نئی دہلی: ہنڈنبرگ کے تازہ ترین مبینہ الزامات اور انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے سوال کیا کہ اگر سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا تو کیا وزیراعظم نریندر مودی یا سیبی سربراہ یا گوتم اڈانی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ راہول گاندھی نے الزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ اس معاملے کی از خود نوٹس لے گا۔اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ہنڈنبرگ ریسرچ نے الزام لگایا تھا کہ سیبی کی چیئرپرسن مادھابی پوری بچ اور ان کے شوہر دھول بچ کے پاس گوتم اڈانی منی سیفوننگ اسکینڈل میں استعمال ہونے والے غیر واضح آف شور فنڈز میں حصہ داری تھی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو ایڈریس میں راہول گاندھی نے کہا ہے کہ چھوٹے خوردہ سرمایہ کاروں کی دولت کی حفاظت کے لیے سیکیورٹیز ریگولیٹر، ایس ای بی آئی (سیبی) کی سالمیت کے ساتھ اس کے چیئرپرسن کے خلاف الزامات کے باعث سنگین سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ملک بھر کے ایماندار سرمایہ کار حکومت کے لیے اہم سوالات ہیں: – سیبی کی چیئرپرسن مادھابی پوری بوچ نے ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟۔کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اگر سرمایہ کار اپنی محنت سے کمائی گئی رقم کھو دیتے ہیں تو کون جوابدہ اور ذمہ دار ہوگا، وزیراعظم مودی، سیبی چیئرپرسن، یا گوتم اڈانی؟ نئے اور انتہائی سنگین الزامات کی روشنی میں جو سامنے آئے ہیں، کیا سپریم کورٹ ایک بار پھر اس معاملے پر از خود غور کرے گی؟ یہ بات اب کافی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ وزیر اعظم مودی جے پی سی کی جانچ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں اور اس سے کیا انکشاف ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ ہنڈنبرگ کی نئی رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے ایک بار پھر ملک کی سیاست میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے ، اپوزیشن پارٹیاں حکومت پر سخت نکتہ چینی کررہی ہیں اور اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن قائدین نے اس معاملہ کی جانچ کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ : راہول گاندھی کو پانچ ماہ میں 46 لاکھ کا نفع
نئی دہلی : مرکز میں نریندر مودی زیرقیادت جاریہ حکومت میں راہول گاندھی کو انڈین اسٹاک مارکیٹ میں نفع حاصل ہوتا جارہاہے ۔ اگرچہ راہول نے اسٹاک مارکیٹ کے تعلق سے کئی شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو گزشتہ پانچ ماہ میں اپنے حصص کی سرمایہ کاری کے ذریعہ 46.49 لاکھ روپئے کا نفع حاصل ہوا ۔ نیوز ایجنسی آئی اے این ایس نے اس ضمن میں جمع کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اسٹاک مارکیٹ میں راہول گاندھی کے حصص کی قدر میں 15 مارچ 2024 ء کی تاریخ تک تقریباً 4.33 کروڑ روپئے کا اضافہ بتایا ہے ۔ یہ اضافہ 12 اگسٹ 2024ء تک 4.80 کروڑ روپئے ہوگیا ۔ یہ نفع اُن شیئرس کی اساس پر معلوم کیا گیا جس کا انکشاف خود راہول گاندھی نے لوک سبھا حلقہ رائے بریلی کیلئے اپنی امیدواری کے سلسلے میں داخل کردہ نامزدگی میں درج کی ہے ۔ راہول کے اسٹاکس میں ایشین پینٹس ، بجاج فینانس ، ہندوستان یونی لیور ، انفوسیس ، آئی ٹی سی ، ٹی سی ایس ، ٹائٹن و دیگر اسٹاکس شامل ہیں۔ انھوں نے تقریباً 24 مختلف حصص میں سرمایہ مشغول کر رکھا ہے ۔ گزشتہ روز ایک ویڈیو پیام میں راہول گاندھی نے مطالبہ کیا کہ ہنڈنبرگ کی جانب سے سیبی سربراہ کے خلاف عائد الزامات کی وزیراعظم جے پی سی تحقیقات کرائیں ۔ تاہم سرمایہ کاروں نے ہنڈنبرگ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے ۔