!سیتاپھل منڈی میں مقیم صحافی کو 25 لاکھ 11 ہزار روپئے کا برقی بل

   

رجوع ہونے پر میٹر میں خرابی کا اعتراف ، 2095 روپئے کا نیا بل جاری
حیدرآباد۔محکمہ برقی کی جانب سے جاری کئے جانے والے بلوں میں خامیوں کے سبب لاکھوں روپئے کے بل جاری کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ محکمہ برقی سے لاکھوں روپئے بلوں کی شکایت کے بعد ان بلوں کو تبدیل کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ میٹر میں نقص کے سبب لاکھوں روپئے کے بل جاری کئے جا گئے ہیں جنہیں بعد ازاں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سیتا پھل منڈی کے رہائشی ایک صحافی کو محکمہ برقی کی جانب سے 25لاکھ 11 ہزار کا برقی بل جاری کیا گیا جبکہ مذکورہ صحافی نے گذشتہ ماہ کا بل594 روپئے ادا کیا تھا ۔ 25 لاکھ 11ہزار روپئے کے بل کی اجرائی کے بعد جب صارف نے محکمہ برقی سے اس بات کی شکایت کی کہ انہیں جو بل موصول ہوا ہے وہ ناقابل قبول ہے جس پر محکمہ برقی نے بل کا جائزہ لیتے ہوئے میٹر کی خرابی کے سبب بل جاری کئے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے نیا بل جاری کیا جو کہ 2095 روپئے کا جاری کیا گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں محکمہ برقی کی جانب سے لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران کے برقی بلوں سے ابھی تک عوام سنبھل نہیں پائے ہیں اور وہ لاک ڈاؤن کی مدت کے جو بل جاری کئے گئے ہیں ان بلوں کے متعلق حکومت کی جانب سے معافی کے اعلان کے منتظر ہیں لیکن ماہ جولائی کے آغاز کے ساتھ ہی اغلاط پر مبنی بلوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے محکمہ برقی سے شکایت کے بعد بلوں کو تبدیل کیا جانے لگا ہے۔25لاکھ سے زائد کے بل کی اجرائی اور اس بل سے دستبرداری کے بعد 2095 روپئے کے بل کی اجرائی پر مذکورہ صحافی نے اعتراض کرتے ہوئے دوسرے بل کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ موسم گرما کے دوران بھی ان کے مکان کا برقی بل 1ہزار سے زائد نہیں آتا تھا لیکن اب جو بل جاری کیا گیا ہے وہ بھی دوگنا سے زیادہ ہے۔علاوہ ازیں شہر میں ایک اور گھریلو صارف کو 5لاکھ 72ہزار کا برقی بل جاری کیا گیا تھا اور جب صارف نے اس سلسلہ میں محکمہ برقی کے عہدیداروں سے اس بات کی شکایت کی تو ان کے بل سے بھی دستبرداری اختیار کرتے ہوئے انہیں 1347 کا بل جاری کیا گیا اور کہا گیا کہ برقی میٹر کی خرابی کے سبب لاکھوں روپئے کا بل جاری کیا گیا تھا لیکن محکمہ برقی کی جانب سے گذشتہ تین برسوں کے برقی بلوں اور استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان لاکھوں روپئے کے بلوں سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ان کے استعمال کے مطابق بل جاری کئے جاچکے ہیں۔