سیسوڈیا اور ستیندر جین کا استعفیٰ : دہلی کے لوگوں کا کام متاثر نہ ہو

   

نئی دہلی: منیش سیسوڈیا نے سپریم کورٹ سے جھٹکا ملنے کے بعد دہلی حکومت میں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سیسوڈیا کے ساتھ ستیندر جین نے بھی اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بھی ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سی بی آئی نے منیش سیسوڈیا کو اتوار کو دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالے میں گرفتار کیا تھا۔سیسوڈیا دہلی حکومت کے سب سے بااثر وزیر تھے۔ تعلیم، مالیات، منصوبہ بندی، زمین اور عمارت، خدمات، سیاحت، فن ثقافت اور زبان، محنت اور روزگار کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ، صحت، صنعت، بجلی، گھر، شہری ترقی، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول اور پانی کا محکمہ بشمول ریاستی حکومت کی تمام بڑی وزارتیں ان کے پاس تھیں۔ جب ستیندر جین جیل گئے تو ان کے محکموں کا اضافی چارج بھی سیسوڈیا کے کندھوں پر تھا۔منیش سیسوڈیا اور ستیندر جین کے استعفیٰ پر دہلی حکومت کے وزیر گوپال رائے نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد دہلی حکومت کے کام کو روکنا ہے، جس طرح سے سیاسی انتقام کے جذبے سے یہ کارروائیاں کی گئیں، اس کا سب سے بڑا ہدف دہلی اور دہلی کے عوام ہیں۔ یہ دیکھ کر دہلی کا کام نہ تاخیر و التوا کا شکار نہ ہوں، استعفے دیئے گئے ہیں۔ ستیندر جین نے پہلے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟اس سوال کے جواب میں گوپال رائے نے کہا کہ منیش سیسوڈیا ستیندر جین کا کام سنبھال رہے تھے، اب اگر سیسوڈیا کے خلاف انتقام کے جذبے سے کارروائی کی جاتی ہے، تو عوام کا کام متاثر نہیں ہونا چاہیے، استعفیٰ اس لیے دیا گیا ہے۔