نئی دہلی : دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملہ میں سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسوڈیا کو آج ایک بار پھر مایوسی ہاتھ لگی جب عدالت نے انھیں 7 دنوں کے لیے ای ڈی ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم سنا دیا۔ ای ڈی نے سماعت کے دوران سیسوڈیا کی 10 دنوں کی حراست کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ گھوٹالہ آبکاری پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا جسے سیسوڈیا اور دیگر نے بنایا تھا۔ اس دوران سیسوڈیا کے وکیل نے ای ڈی کی شدید مخالفت کی، لیکن را ؤز ایونیو کورٹ نے انھیں 7 دنوں کے لیے ای ڈی کے حوالے کر دیا۔یہاں قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے بھی سیسوڈیا کو آبکاری پالیسی گھوٹالہ معاملے میں گرفتار کیا تھا اور اس سلسلے میں سیسوڈیا نے ضمانت کی عرضی داخل کر رکھی ہے۔ حالانکہ عدالت نے سیسوڈیا کی ضمانت پر سماعت آئندہ 21 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔سی بی آئی نے سیسوڈیا کو 26 فروری کو ہی گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ای ڈی نے اسی سے جڑے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں تہاڑ جیل میں سیسوڈیا سے پوچھ تاچھ کی اور 9 مارچ کو انھیں گرفتار کر لیا۔ای ڈی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ منیش سسودیا کے خلاف گواہ اور دیگر ثبوت موجود ہیں۔ سیسوڈیا منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق گٹھ جوڑ کا حصہ تھے۔ ای ڈی نے دعویٰ کیا کہ سیسوڈیا نے فون سے دوسرے ثبوت ختم کر دیے ہیں۔ پھر انھوں نے دوسرے کے ذریعہ خریدے گئے فون کا استعمال کیا۔ ہمیں بار بار غلط بیان دیے۔ ایسے میں پوری سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے سیسوڈیا کا دیگر لوگوں سے آمنا سامنا کرانا ہوگا۔ اس پر سیسوڈیا کے وکیل نے کہا کہ پالیسی بنانا ایگزیکٹیو کا کام ہے، جسے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔