نظام میر محبوب علی خان کے دور حکومت میں قائم کردہ تاریخی ورثہ
حیدرآباد /3 جولائی ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کے سیف آباد کے میوزیم میں خزانہ جو تاریخی ورثہ ہے ۔ حیدرآباد کے چھٹے نظام میر محبوب علی خان نے 1903 میں قائم کیا تھا ۔ یہ جگہ اصل میں ٹکسال کے طور پر کام کرتی تھی اور جس سے اس ٹکسال کو قابل ذکر مقام بنایا ۔ ہندوستان میں مشن سے بننے والے سکوں کا پہلا مقام تھا ۔یہ ملک کے سکوں کے نظام کیلئے ایک بڑی پھلانگ تھی ۔ جو ہاتھ سے بنے ہوئے جدید درستگی کیطرف منتقل ہو رہی تھی ۔ سیف آباد ٹیکسال جدت اور طاقت کی علامت تھی جو نہ صرف حیدرآباد کیلئے سکے تیار کرتی تھی بلکہ اس میں اپنا حصہ بھی ادا کرتی تھی جون 2022 میں جیسا کہ ہندوستان نے آزادی کے 75 سال کا جشن منایا ۔ ٹکسال کو سیکوریٹی پرنٹنگ اینڈ مینٹنگ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ نے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا ۔ اس اقدام نے ایک صدی پرانے سکے کی فیکٹری کو عوام کیلئے سیکھنے کی ایک متحرک جگہ میں تبدیل کردیا ۔ ایک ایسی جگہ جہاں سکے سلطنتوں معیشت اور اوقتاً کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ یہ نمائش ہندوستان کے سکوں کی تاریخ کا ایک جامع جائزہ پیش کرتی ہے جس میں قدیم پنچ کے نشان والے سکوں سے لیکر آج کے چکنے سکوں تک کے سفر کا پتہ چلتا ہے ۔ اس میوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے سکے سونے کے سکے کی نقل دکھائی گئی ہے ۔ جس کا وزن 11 کیلو گرام ہے ۔ اس میوزیم میں داخلہ مفت ہے اور یہ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک عوام کیلئے کھلا رہے گا ۔ پیر اور عوامی تعطیلات کو یہ میوزیم بند رہے گا ۔ ش