سیلاب متاثرین کو امداد ،عہدیداران مکانات کا دورہ کریں گے

   

می سیوا مرکز پر درخواست گذاروں کا ہجوم پر کمشنر جی ایچ ایم سی کا فیصلہ
حیدرآباد۔ سیلاب متاثرین کے سیلاب دوبارہ می سیوا مراکز پر امڈ آئے اور عوام کی بڑی تعداد کے می سیوا مراکز پہنچنے کے سبب کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے 7 ڈسمبر کو ایک دن کیلئے تمام می سیوا مراکز کو بند رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اور جی ایچ ایم سی نے فیصلہ کیا ہے کہ آن لائن یا می سیوا مراکز کے ذریعہ 10 ہزار روپئے کی مالی امداد کی اجرائی نہ کی جائے بلکہ عہدیداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور مکانات کا دورہ کرتے ہوئے ان کے ریکارڈ حاصل کئے جائیں گے اور ان کو راست بینک میں رقم منتقل کردی جائے گی۔ شہر حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے انتخابات سے قبل سیلاب متاثرین کو 10ہزار روپئے کی اجرائی عمل میں لائی جارہی تھی اور جی ایچ ایم سی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعدتلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے شہر حیدرآباد میں سیلاب کے متاثرین کو جاری کی جانے والی نقد امداد کو روک دینے کی ہدایات جاری کی تھی جس پر حکومت نے نقد امداد کی اجرائی کے عمل کو فوری اثر کے ساتھ روکتے ہوئے 7ڈسمبر سے سیلاب متاثرین کیلئے 10 ہزار روپئے کی اجرائی کے آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انتخابی عمل کی تکمیل کے فوری بعد 10ہزار روپئے کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا جس پر 7 ڈسمبر کو شہر کے کئی علاقوں میں صبح کی اولین ساعتوں کے ساتھ ہی می سیوا مراکز پر طویل قطاریں لگ گئی اور الوال میں مقامی کارپوریٹر کے مکان کے روبرو شہریوں نے دھرنا منظم کرتے ہوئے 10 ہزار روپئے کی نقد امداد کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات پر زور دیا ۔ شہر کے کئی مقامات سے می سیوا پر عوام کی بڑی تعداد جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہونے پر کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر لوکیش کمار نے اس سلسلہ میں ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے می سیوا مراکز پر کسی بھی طرح کے ناگہانی واقعہ کو پیش آنے سے روکنے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے مکانات کا دورہ کرتے ہوئے 10 ہزار کی نقد امداد سے محروم ہونے والوں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان تمام لوگوں کو 10ہزار کی رقمی امداد جاری کی جائے گی جو لوگ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی رقم کے حصول سے محروم رہے ہیں۔شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں حکومت کی جانب سے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے دوسرے دن بھی 10ہزار کی نقد امداد کی منتقلی کا سلسلہ جاری تھا۔