استفادہ کنندگان اور غیر استفادہ کنندگان کا جائزہ لینے لائحہ عمل
حیدرآباد۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے سیلاب کے متاثرین میں 10ہزار کی نقد امداد کی اجرائی کے عمل کو روک دیئے جانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے جی ایچ ایم سی کی جانب سے سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم کے عمل کو جاری رکھا گیا ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بلدی عہدیدارو ںنے سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم کے عمل کو روک دیئے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 8 ڈسمبر کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر حیدرآباد کے سیلاب متاثرین میں 7کروڑ 94لاکھ 90ہزار کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے اور یہ رقومات تمام سیلاب متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ 7 ڈسمبر کو سیلاب متاثرین کی طویل قطاریں می سیوا مراکز پر جمع ہونے کے سبب کسی بھی طرح کے ناگہانی واقعہ کو روکنے کیلئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے می سیوا پر درخواستوں کی وصولی کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن تمام سیلاب متاثرین کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سرکاری امداد 10 ہزار روپئے کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔بلدی عہدیداروں نے بتایاکہ 8ڈسمبر کو منگل کے دن صرف ایک یوم میں جی ایچ ایم سی کے حدود میں موجود 7939 سیلاب متاثرین کے بینک کھاتوں میں 10ہزار روپئے منتقل کئے جاچکے ہیںاور آئندہ دنوں کے دوران بھی جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین کی نشاندہی عمل میں لائی جائے گی اور تمام حقیقی متاثرین کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ابتدائی رقمی ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔بتایاجاتا ہے کہ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے جی ایچ ایم سی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر سیلاب متاثر کو ابتدائی راحت کاری کی رقم جو حکومت کی جانب سے جاری کی جا رہی ہے اس کی تحقیق کے ساتھ اجرائی عمل میں لائی جائے اور جن لوگوں کا زیادہ نقصان ہوا ہے ان کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے نقصانات کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔