سینئر قائد محمد علی شبیر کی کانگریس سے علیحدگی کی افواہ

   


سابق وزیر کی بڑھتی ساکھ کو متاثر کرنے کا الزام، سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کرنے پولیس میں شکایت
کاماریڈی ۔ 4 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سینئر کانگریس قائد و سابق ریاستی وزیر پردیش کانگریس کے کوارڈنیشن کمیٹی کے کنونیر محمد علی شبیر ، کانگریس پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کی سوشل میڈیا پر افواہ پر کانگریس پارٹی کے قائدین نے سخت نوٹ لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانے والے کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کرنے کی پولیس میں شکایت کی ۔ فون نمبر 8519865181نمبر سے سوشل میڈیا پرمحمد علی شبیر ، غلام نبی آزاد ، ایم اے خان کی طرح کانگریس پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عنقریب میں لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا گذشتہ دو دنوں سے چلائے جانے پر کانگریس نے سخت نوٹ لیتے ہوئے واضح کیا کہ محمد علی شبیر کی قیادت میں کانگریس کا ایک وفد دلی کے رام لیلہ میدان میں شرکت کیلئے روانہ ہوا ہے جبکہ شبیر علی کی بڑھتی ہوئی ساکھ کو متاثر کرنے کیلئے اس طرح کے غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہے شبیر علی عرصہ دراز سے کانگریس پارٹی سے وابستہ رہتے ہوئے بحیثیت رکن اسمبلی ریاستی وزیر کئی ایک کارناموں کو انجام دیا ہے صدر ٹائون کانگریس پی راجو ، یوتھ کانگریس صدر سرینواسو س ، ارکان بلدیہ روی پرساد، اقلیتی سیل کے نائب صدر محمد احمد اللہ خان و دیگر نے بتایا کہ محمد علی شبیر کی شناخت کانگریس پارٹی سے ہے اور کانگریس پارٹی کو محمد علی شبیر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کانگریس ہائی کمان کی جانب سے دلی میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کیلئے ضلع کانگریس صدر کے سرینواس کے ہمراہ کئی کارکن دلی روانہ ہوئے ہیں لیکن چند افراد شبیر علی کی نیک نامی کو متاثر کرنے کیلئے اس طرح کے حرکتیں کررہے ہیں ۔ شبیر علی کیخلاف افواہیں پھیلانے کے بارے میں دریافت کرنے پر محمد علی شبیر نے سیاست نیوز کو بتایا کہ گذشتہ چند دنوں سے اس طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہے اور پھیلانے والے کا تعلق بھی کانگریس پارٹی کے مخالف گروپ سے ہے اور جو فون نمبر کا استعمال کیا گیا یہ نمبر کاکی ناڈہ ہے اس خصوص میں پولیس اپنا کام کررہی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ ہمیشہ کانگریس میں ہے اور آئندہ بھی کانگریس پارٹی سے وابستہ رہیں گے ۔