حیدرآباد۔ 28 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی کا ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب 1:28 بجے انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 77 سال تھی۔ انہیں 20 جولائی کو شدید بخار کی وجہ ایشین انسٹیٹیوٹ آف گیاسٹرو انٹرولوجی واقع گچی باؤلی میں شریک کیا گیا تھا جہاں مختصر علالت کے بعد انہوں نے آخری سانس لی۔پسماندگان میں شریک حیات کے علاوہ دو لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں۔ مخصوص اندازِ تخاطب اور ایک منجھے ہوئے مقرر کی حیثیت سے انہوں نے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا تھا۔ حالانکہ وہ بچپن سے پولیو کے سبب دونوں پاؤں سے معذور تھے لیکن جسمانی معذوری انہیں سیاسی بلندیوں کے حصول سے روک نہیں سکی۔ وہ پانچ میعادوں کیلئے لوک سبھا کے رکن رہے۔ دو میعادوں کیلئے راجیہ سبھا کے رکن رہے اور متحدہ آندھرا پردیش اسمبلی میں چار میعادوں کیلئے رکن رہے، لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ جئے پال ریڈی نے 1980ء میں حلقہ لوک سبھا میدک سے کانگریس کی صدر اور سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے خلاف مقابلہ کیا تھا۔ بعدازاں وہ جنتا پارٹی کے علیحدہ شدہ گروپ جنتا دل میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جئے پال ریڈی کو صاف ستھرے سیاسی کریئر کے سبب مختلف گوشوں سے بھرپور تائید و ستائش حاصل تھی۔ اس کے علاوہ اپنے منفرد فن خطابت اور تقریری صلاحیت، الفاظ کی محل وقوع کے مطابق برجستہ و شائستہ اُلٹ پھیر کی مہارت تھی جس کے سبب وہ وی پی سنگھ کے زیرقیادت یونائٹیڈ فرنٹ اور اس کی حکومت کے ترجمان بنائے گئے تھے۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد بھی انہوں نے اس پارٹی میں ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے سپوت ایس جئے پال ریڈی علیحدہ ریاست تلنگانہ کے کٹر حامی تھے۔ کانگریس قائدین نے یاد دلایا کہ یو پی اےII حکومت کے دوران علیحدہ ریاست کے قیام کیلئے اے آئی سی سی کی صدر سونیا گاندھی کو جئے پال ریڈی نے کامیابی کے ساتھ آمادہ کیا تھا۔ اس کے بعد ہی علیحدہ ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ وہ کئی دہائیوں تک پارلیمنٹ کے رکن اور مختلف حکومتوں میں کلیدی وزارتوں پر فائز رہے۔ انہیں 1998ء میں بہترین پارلیمنٹیرین کا اعزاز دیا گیا تھا۔ جئے پال ریڈی کا تعلق ضلع محبوب نگر کے مادوگلا سے تھا، وہ 16 جنوری 1942ء کو ضلع نلگنڈہ میں چندور منڈل کے تحت نرمیٹا گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب وزیر صدر ایم وینکیا نائیڈو، وزیراعظم نریندر مودی، اسپیکر لوک سبھا اوم برلا، سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ، کانگریس قائدین سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، پی چدمبرم، غلام نبی آزاد، سلمان خورشید، کپل سبل، اور دوسروں نے خراج عقیدت ادا کیا اور غم زدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ یو پی اے 2حکومت کی کابینہ میں 28اکتوبر2012کو ہوئی ردوبدل کے بعد ریڈی پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر سے سائنس وٹکنالوجی کے وزیر بنائے گئے تھے ۔ وزارت تیل نے سی اے جی رپورٹ 2011کے مطابق گیس کی پیداوار میں کمی پر مکیش امبانی کی کمپنی کو 7000کروڑ روپئے کاجرمانہ عائد کیا تھا۔ساتھ ہی وزارت تیل نے بھارت پٹرولیم میں ان کی کمپنی کی 7.2 بلین شراکت داری کو بھی منظوری نہیں دی تھی۔
جئے پال ریڈی حقیقی معنوں میں سکیولر اور اقلیت دوست
اقلیتوں کے مسائل پر موثر نمائندگی :سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر
حیدرآباد۔ 28 جولائی (سیاست نیوز) سینئر کانگریس لیڈر و سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے سینئر پارلیمنٹیرین ایس جئے پال ریڈی کو حقیقی معنوں میں سکیولر اور اقلیت دوست قرار دیا جنہوں نے آخری سانس تک اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ جئے پال ریڈی کے انتقال پر تعزیتی بیان میں محمد علی شبیر نے کہا کہ مرکزی کابینہ کے مسلم وزراء نے خود اس بات کی توثیق کی تھی کہ کانگریس دور حکومت کے دور وزراء جئے پال ریڈی اور پی شیو شنکر نے جب کبھی اقلیتوں کے مسائل پر مباحث ہوئے تو کھل کر تائید کی تھی۔ محمد علی شبیر نے جئے پال ریڈی سے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چار دن قبل ہی جئے پال ریڈی نے انہیں قیام گاہ مدعو کرتے ہوئے ریاست کے حالات پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو میٹرو ریل پراجیکٹ کی منظوری میں مرکزی وزیر شہری ترقی کی حیثیت سے جئے پال ریڈی کا اہم رول تھا۔ وائی ایس آر نے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے وفد کو دہلی بھیجا تھا جس کی قیادت محمد علی شبیر نے کی تھی۔ کاماریڈی کو گوداوری کے پانی کی سربراہی جئے پال ریڈی کا کارنامہ ہے۔ وزیر شہری ہوا بازی کے طور پر متحدہ آندھرا پردیش میں کئی اہم پراجیکٹس کو منظوری دی۔ کونسل میں محمد علی شبیر کی تقاریر کے مجموعہ کا مقدمہ جئے پال ریڈی نے لکھا جبکہ کے روشیا نے رسم اجراء انجام دی تھی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جئے پال ریڈی کا انتقال سکیولر اور جمہوریت کیلئے نقصان ہے۔ سکیولر نظریات کے حامل قائدین ملک میں کم ہورہے ہیں۔
