سینٹ مارٹن جزیرہ نہ دینے پر امریکہ کی سازش:شیخ حسینہ

,

   

بنگلہ دیش میں ان کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا،سابق وزیر اعظم کا سنسنی خیز الزام

نئی دہلی: بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور ملک چھوڑنے کے بعد شیخ حسینہ کا پہلی بار بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے عوامی لیگ حکومت کا تختہ پلٹ کروانے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ بتایا ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ایئر بیس قائم کرنے کے لیے سینٹ مارٹن جزیرہ مانگ رہا تھا۔ یہ جزیرہ انہیں نہیں سونپنے کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ اگر یہ جزیرہ امریکہ کو مل جاتا تو وہ خلیج بنگال میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اپنے قریبی معاونین کے ذریعہ بھجوائے گئے ایک پیغام میں شیخ حسینہ نے کہا کہ میں نے استعفیٰ دے دیا تاکہ مجھے نعشوں کا جلوس نہیں دیکھنا پڑے۔ وہ نعشوںپر اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے اس کی اجازت نہیں دی اور وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ میں اقتدار میں بنی رہ سکتی تھی اگر میں نے سینٹ مارٹن جزیرہ کی خود مختاری امریکہ کے سامنے پیش کر کے خلیج بنگال میں اسے اپنا تسلط قائم کرنے کی اجازت دے دی ہوتی۔ میں اپنے ملک کے باشندوں سے گزارش کرتی ہوں کہ مہربانی کر کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔شیخ حسینہ نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے کبھی طلباء کسی کو رضاکار کہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلباء کو اْکسانے کے لیے ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سازشی لوگوں نے معصوم طلبا کا فائدہ اٹھا کر ملک میں تشدد کا ماحول برپا کر دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں ملک واپسی کے بھی اشارے دیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ چیلنجز سے لڑ کر بار بار کھڑی ہوئی ہے۔ اگر ملک میں رہتی تو زیادہ جانیں جاتیں اس لیے ملک کو چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سن کر میرا دل رو رہا ہے کہ میری پارٹی کے کئی رہنما مارے گئے ہیں اور پارٹی کارکنوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ ان کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کی رحمت سے جلد ہی ملک واپس لوٹیں گی۔ انہوں نے استعفیٰ کے 6 دن بعد کہا ہے کہ امریکہ کو سینٹ مارٹن آئی لینڈ نہ دینے کی وجہ سے ان کی حکومت گرائی گئی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر امریکہ اور برطانیہ نے بنگلہ دیش کی سابقہ ڈیکٹیٹر کو سیاسی پناہ دینے سے انکار کردیا تھا۔سینٹ مارٹن جزیرہ جس کے بارے میں بنگلہ دیش کی سیاست میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا یہ جزیریہ 3 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ میانمار سے اس کی دوری صرف 5 میل ہے۔ جون 2023 کو وزیر اعظم حسینہ نے کہا تھا کہ اگر اپوزیشن بی این پی پارٹی اقتدار میں آئی تو وہ سینٹ مارٹن بیچ دیں گے۔بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر میں نے امریکہ کو بنگال کی خلیج میں اختیارات دے دیے ہوتے تو میری حکومت قائم رہتی۔ لیکن میں نے اپنے ملک کے لوگوں کا خیال رکھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ مئی میں حسینہ نے بنگلہ دیش اور میانمار کے کچھ حصوں کو تقسیم کر کے مشرقی تیمور کی طرح ایک عیسائی ریاست بنانے کی سازش کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ کسی دوسرے ملک کو بنگلہ دیش میں ایئر بیس قائم کرنے کی اجازت دیتی ہیں تو انہیں بہت آسانی سے دوبارہ وزیراعظم منتخب کر لیا جائے گا۔ حالانکہ انہوں نے اس وقت ملک کا نام نہیں بتایا تھا۔یاد رہے کہ شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد بنگلہ دیش میں 300 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ابھی تک وہاں پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 560 ہو چکی ہے۔بنگلہ دیش میں سیاسی حالات کافی زیادہ خراب ہو گئے تھے۔ پانچ اگست کو طلباء کا احتجاج تیز ہوا تھا۔ یہ لوگ سرکاری ملازمت میں متنازعہ کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کے بعد بڑھتے ہوئے تشدد سے ڈر کر شیخ حسینہ ملٹری ایئرکرافٹ میں سوار ہو کر ہندوستان پہنچ گئیں تھیں۔ فی الحال وہ ہندوستان میں ہی موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی گئی ہے۔