اسلام آباد ۔ 13 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی میڈیا میں بھی ان دنوں کورونا وائرس ہی سب سے بڑا موضوع ہے۔ لیکن عام پاکستانی اور بیرونی دنیا دونوں نہیں جانتے پاکستانی میڈیا ہاؤسز خود اس وائرس کے گڑھ بن چکے ہیں۔اب تک لاکھوں انسانوں کو ہلاک اور کئی ملین کو بیمار کر دینے والی کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف عام شہریوں کو باشعور بنانے میں پاکستان میڈیا بھی اپنی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ کے پاکستانی کارکنوں کے بارے میں خود ان کے ہم وطن بھی لاعلم ہیں کہ یہ صحافی کن حالات میں کام کر رہے ہیں۔ عمومی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی میڈیا کارکن بھی کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کووڈ انیس سے تقریباً اتنی ہی شدت سے متاثر ہوئے ہیں، جتنے کہ ملکی طبی شعبے کے کارکن۔گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران پاکستان میں 60سے زائد صحافی مصدقہ طور پر کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ظفر رشید بھٹی تو اپریل کے آخری ہفتے میں راولپنڈی میں کورونا وائرس کے خلاف اپنی زندگی کی جنگ ہار بھی گئے۔
