سینکڑوں فلسطینی رفح کراسنگ سے منزل مقصود کی سمت روانہ

   

رفح ،9 فروری (ایجنسیز) حکام کے مطابق مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کی محدود بحالی کے ایک ہفتے کے دوران غزہ پٹی سے تقریباً 180 فلسطینی باہر جا چکے ہیں۔ رفح کراسنگ، جو اسرائیل سے گزرے بغیر غزہ کے عوام کے لیے بیرونی دنیا کا واحد راستہ ہے، 2 فروری کو لوگوں کی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولی گئی۔ یہ بحالی تقریباً دو سال بعد ہوئی، جب اسرائیلی افواج نے حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اس کراسنگ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ حماس کے زیرانتظام فلسطینی علاقے میں میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتی کے مطابق پیر سے جمعرات کے درمیان 135 افراد غزہ سے مصر گئے، جن میں زیادہ تر مریض اور ان کے ساتھ جانے والے اہلِ خانہ شامل تھے۔الثوابتی نے کہا کہ 2 فروری 2026 سے 5 فروری 2026 تک کے سرکاری اعدادوشمار رفح کراسنگ پر سفرکی سخت پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو کراسنگ بند رہی۔ فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی نے بھی تصدیق کی کہ2 سے 5 فروری کے درمیان 135 افراد رفح کے راستے غزہ سے نکلے۔ اتوار کے روز مزید 44 افراد مصر روانہ ہوئے، جن میں 19 مریض اور باقی ان کے تیماردار تھے، یہ بات غزہ کے مرکزی الشفاء اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتائی۔ مصر کی جانب سرحدی ذرائع نے بھی اتوارکو گزرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ اس طرح غزہ سے باہر جانے والوں کی مجموعی تعداد 179 ہوگئی۔ اتوار کے روز روانگی سے قبل ابو الجدیان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو جنگ کے دوران پیر میں دھات کی پلیٹ لگائی گئی تھی، جسے مزید نقصان سے بچانے کے لیے نکالنا ضروری ہے۔ کراسنگ کے دوسری سمت سے بھی آمدورفت جاری ہے۔ الثوابتی کے مطابق بحالی کے بعد سے 88 افراد مصر سے غزہ واپس آئے، جہاں کئی خاندانوں کی جذباتی ملاقاتیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے امریکی دباؤ کے بعد پیر کے روز رفح کراسنگ کی بحالی کی اجازت دی، تاہم تاحال آمدورفت مریضوں اور ان کے ساتھ جانے والے رشتہ داروں تک محدود ہے۔ اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے طویل عرصے سے رفح کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کا بھی اہم حصہ ہے۔ شدید انسانی بحران کے شکار غزہ میں ہزاروں بیمار اور زخمی فلسطینیوں کے لیے یہ بحالی علاج کے حصول کا نادر موقع فراہم کر رہی ہے۔ ابو سلمیہ کے مطابق غزہ میں اس وقت تقریباً 20 ہزار مریضوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے، جن میں 4,500 بچے شامل ہیں۔