سینیٹر جو مینشن کا کملا ہیرس کے مقابل صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر غور

   

صدارتی انتخابات کی دوڑ سے جوبائیڈن کی دستبرداری پرعالمی قائدین کا ردعمل،فیصلہ کی ستائش

واشنگٹن: آزاد امریکی سینیٹر جو مینشن ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے امریکی صدارتی انتخاب کی دوڑ کا حصہ بننے پر غور کررہے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے صدارتی دوڑ سے دستبرداری کے اعلان سے قبل جو مینشن نے بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انتخابات میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے کھڑے نہ ہوں اور ساتھ ہی جو مینشن نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر نائب صدر کملا ہیرس کی نامزدگی کی حمایت کی تھی۔ جو مینشن جو مئی میں اپنی پارٹی رجسٹریشن تبدیلی کرکے آزاد سینیٹر بنے تھے، کملا ہیرس کے مدمقابل انتخاب لڑنے پر غور کررہے ہیں۔مسلسل دباؤ کے بعد 81 سالہ امریکی صدر بائیڈن نے سوشل میڈیا پر اپنا بیان جاری کیا جس میں انہوں نے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کو اپنی زندگی کا ’سب سے بڑا اعزاز‘ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا ارادہ ایک بار پھر صدر منتخب ہونا تھا لیکن مجھے لگتا ہیکہ یہ میری جماعت اور میرے ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا کہ میں دستبردار ہوں جاؤں اور اپنی بقیہ مدت صدارت میں اپنی صدارتی ذمہ داریاں سرانجام دینے پر تمام تر توجہ مرکوز کروں۔ دوسری طرف عالمی قائدین نے جوبائیڈن کے صدارتی امیدوار کی دوڑ سے دستبرداری پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔امریکہ کے 46ویں،81 سالہ صدر جوبائیڈن کی جانب سے صدارتی انتخابات سے دستبرداری کے فیصلے پریوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے مشکل مگر مضبوط فیصلہ لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پولینڈ کے وزیراعظم ڈونالڈ ٹسک نے بھی امریکی صدر کو مشکل فیصلے لینے پر سراہا ہے۔اسی طرح برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے اپنے ملک، یورپ اور دنیا کے لیے بہت کچھ حاصل کیا۔جاپانی وزیراعظم فومیو کشیدا نے کہا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کا انتخابات نہ لڑنے کا اعلان بہترین سیاسی فیصلہ ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن عظیم انسان ہیںوہ جو کچھ کرتے ہیں ملک کی محبت میں کرتے ہیں۔روس کے صدارتی محل کریملن کی جانب سے بھی امریکی صدر جو بائیڈن کے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے پر ردِ عمل دیا گیا ہے۔کریملن کے مطابق امریکی انتخابات کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، امریکی انتخابات میں ابھی 4 ماہ باقی ہیں اور یہ ایک طویل وقت ہے۔