چینائی ۔7 فروری (یو این آئی) ہندوستان کی نجی خلائی کمپنی ازیسٹا اسپیس کے تیار کردہ سیٹلائٹ اے ایف آر نے خلا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن(آئی ایس ایس) کی واضح تصاویر قید کر لی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ہندوسانی نجی سیٹلائٹ نے زمین کے بجائے خلا میں موجود کسی دوسری شے کی تصویر کشی کی ہو۔ کمپنی کے مطابق 80 کلو وزنی اے ایف آر سیٹلائٹ، جسے 2023 میں لانچ کیا گیا تھا، نے سورج کی روشنی میں آئی ایس ایس (آئی ایس ایس) کی تصاویر 250 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے سے لیں۔ اس مشن کے دوران سیٹلائٹ کے سینسرز نے خلائی اسٹیشن کا تعاقب کیا اور 5 مختلف فریمز میں اس کی تصاویر لیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ دو بار کی گئی کوششوں میں 100 فیصد کامیابی حاصل ہوئی۔ ازیسٹا اسپیس کے منیجنگ ڈائریکٹر سری نواس ریڈی نے اس کامیابی کو ہندوستان کی خود مختار خلائی تیاریوں میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے ایف آر ہندوستان کا واحد نجی سیٹلائٹ ہے جس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے ۔ یہ صلاحیت دشمن کے سیٹلائٹس کی پوزیشن معلوم کرنے اور خلائی صورتحال سے آگاہی (ایس ایس اے ) کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ گجرات کے علاقے سانند میں 500 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جدید الیکٹرو آپٹیکل پے لوڈ مینوفیکچرنگ فیسیلٹی قائم کر رہی ہے ۔ یہ فیکٹری دفاعی اور خلائی مشن کے لیے اعلیٰ معیار کے آلات تیار کرے گی، جس سے ہندوستان کا دوسرے ممالک پر انحصار کم ہوگا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ واضح رہے کہ 2023 میں بطور ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر لانچ ہونے والا یہ سیٹلائٹ اب باقاعدہ آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے ۔ یہ سمندر کی طویل پٹیوں کی تصاویر اور ریموٹ سینسنگ ڈیٹا فراہم کر رہا ہے ، جسے ہندوستان اور بیرونِ ملک کے کلائنٹس بڑے پیمانے پر خرید رہے ہیں۔