سیکس سی ڈی اسکینڈل پر بی جے پی لیڈر کا یوٹرن

   

بنگلورو:۔ کرناٹک میں بی جے پی کے سابق وزیر رمیش جارکی ہولی اب سیکس سی ڈی اسکینڈل سے متعلق اپنے دعوے کو ٹال رہے ہیں۔ انھوں نیکہاکہ ابھی میں ہائی کمان سے بات کر رہا ہوں، کچھ نہیں کہہ سکتا۔ معاملہ عدالت میں ہے، بات نہیں کر پائیں گے۔ یہ کہتے ہوئیاپنے دعویٰ سے انحرا ف کررہے ہیںیہ وہی جارکی ہولی ہے، جس نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ کانگریس لیڈر ڈی کے شیوکمار نے دیگر لیڈروں کے ساتھ مل کر 120 لوگوں کی فحش سی ڈیز بنائی ہیں۔خود جارکی ہولی کا قابل اعتراض ویڈیو مارچ 2021 میں وائرل ہوا تھا۔ اس کے بعد انہیں وزارتی عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اتنے مہینوں کی خاموشی کے بعد اور انتخابات سے محض دو ماہ قبل ان کا اچانک متحرک ہونا کئی سیاسی اشارے بھی دے رہا ہے۔جارکی ہولی نے الزام لگایا کہ کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے ان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے فحش ویڈیوز بنائے ہیں۔ انہوں نے 2 فروری کو وزیر داخلہ سے ملاقات کی تھی اور سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب انہوں نے اچانک یو ٹرن لے لیا ہے۔پولیس کو 60 سے 100 فحش ریکارڈنگ ملی ہیں رمیش جارکی ہولی نے شاید اب خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن ایک ہفتہ قبل جب انہوں نے انکشاف کیا کہ 120 لیڈروں کی سی ڈیز بنائی گئی ہیں تو ہنگامہ برپا ہو گیا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے اور اس کیس کو سی بی آئی کو منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے ایک گروپ بنایا تھا۔ اس گروپ کے ارکان کو مجھے ہنی ٹریپ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔پولیس نے ایک رکن کے گھر پر چھاپہ مارا تو معلوم ہوا کہ وہاں 60 سے 100 افراد کی فحش ریکارڈنگ موجود ہے۔ ان کی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ ہو چکی ہے۔کانگریس لیڈرشیوکمار نے کہاکہ جارکی ہولی، جہاں چاہو شکایت کرلے۔اس معاملے میں ڈی کے شیوکمار کہتے ہیں کہ جارکی ہولی جہاں چاہیں شکایت کر سکتے ہیں، اور تحقیقات کروائیں۔وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ کرناٹک کی سیاست میں سبھی جانتے ہیں کہ جارکی ہولی اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان کئی سالوں سے جھگڑا چل رہا ہے۔انتخابات سے پہلے کئی لیڈروں کے فحش ویڈیوز سامنے آسکتے ہیں کرناٹک کے سینئر صحافی اشوک چندرگی کہتے ہیںکہ ‘ایس آئی ٹی نے اس معاملے کی جانچ کی تھی۔ انہوں نے جارکی ہولی کو کلین چٹ دے دی ہے۔