سیکولرازم اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے اقلیتی طبقات متحد ہوجائیں

   

ریونت ریڈی کی اپیل، اقلیتوں کی ترقی صرف کانگریس سے ممکن، عیسائی طبقہ کے ڈکلیریشن کی اجرائی
حیدرآباد ۔13۔نومبر (سیاست نیوز) ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے اقلیتی طبقات کو متحدہ طور پر کانگریس پارٹی کی تائید کرنی چاہئے ۔ کانگریس ملک کی واحد پارٹی ہے جو اقلیتی طبقات کے حقوق کا نہ صرف تحفظ کرتی ہے بلکہ سماجی انصاف کی فراہمی میں اس کا بنیادی مقصد ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے آج عیسائی اقلیت کی مختلف تنظیموں کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر عیسائی طبقہ کی ہمہ جہتی ترقی اور بھلائی کیلئے کرسچن ڈکلیریشن جاری کیا گیا۔ عیسائی تنظیمیں مختلف سیاسی پارٹیوں کو ڈکلیریشن حوالے کر رہی ہیں تاکہ برسر اقتدار آنے پر عمل کیا جائے۔ اس موقع پر عیسائی تنظیموں کے نمائندوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے ، رکن راجیہ سبھا ناصر حسین ، سابق مرکزی وزیر دیپا داس منشی اور مہیلا کانگریس کی قومی صدر این ڈیسوزا اس موقع پر موجود تھیں۔ ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں اقلیتی طبقات کی ہمہ جہتی ترقی کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اور معاشی ترقی کے علاوہ سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیکولرازم اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی کے بعد مرکز میں کانگریس کا اقتدار ضروری تاکہ ملک میں سیکولرازم کا تحفظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تمام اقلیتی طبقات کی یکساں ترقی کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں دیئے گئے حقوق کے تحت اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کی توقع کے عین مطابق سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست قائم کی اور پارٹی کو سیاسی نقصان کی پرواہ نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کل کرناٹک میں کانگریس کو کامیابی ملی اور آج تلنگانہ میں اور کل دہلی میں کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منی پور اور ملک کے دیگر علاقوں میں اقلیتوں پر مظالم کے واقعات افسوس ناک ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ کانگریس حکومت عیسائی طبقہ کے ڈکلیریشن پر عمل کرے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ڈسمبر کو کرشماتی ماہ کے طور پر موسوم کیا جاتا ہے اور ڈسمبر 2023 ء میں کانگریس کی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ایک کرشمہ وجود میں آئے گا۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری مانک راؤ ٹھاکرے اور رکن راجیہ سبھا ناصر حسین نے عیسائی تنظیموں کے نمائندوں کو بھروسہ دلایا کہ کانگریس پارٹی حکومت عیسائی طبقہ کی بھلائی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ کرسچن ڈکلیریشن میں عیسائی طبقہ کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔