کانگریسی ارکان کے غیر قانونی انضمام کی مذمت، تلگودیشم اور تلنگانہ جنا سمیتی قائدین کا اظہار یگانگت، آر سی کنٹیا ، اتم کمار ریڈی اور
سینئر قائدین کی شرکت، 36 گھنٹے کی بھوک ہڑتال غیر معینہ مدت میں تبدیل
حیدرآباد۔/8 جون، ( سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے ٹی آر ایس میں انضمام کے خلاف سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے آج اندرا پارک کے دھرنا چوک پر 36 گھنٹے طویل بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تاہم صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے اسے غیر معینہ مدت میں تبدیل کردیا اور کہا کہ مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رہے گا۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ آر سی کنٹیا نے بھوک ہڑتال کیمپ کا آغاز کیا۔صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سابق سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی، سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، ارکان مقننہ بی سریدھر بابو ، ٹی جیون ریڈی، جگا ریڈی ، سیتا اکا، سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی، عظمت اللہ حسینی، انجن کمار یادو ، سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا، پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کسم کمار، آل انڈیا کسان سیل کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ وشویشور ریڈی، صدر ضلع کانگریس نظام آباد طاہر بن حمدان،مہیلا کانگریس کی صدر سجاتا کے علاوہ یوتھ کانگریس اور مہیلا کانگریس کے قائدین نے شرکت کی۔ صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام اور تلنگانہ تلگودیشم کے قائد آر چندر شیکھر ریڈی نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کرتے ہوئے یگانگت کا اظہار کیا۔ پارٹی نے غیر قانونی انضمام کے خلاف قانونی لڑائی کے ساتھ عوامی عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل سکریٹری انچارج آر سی کنٹیا نے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس نے غیر قانونی طریقہ سے کانگریسی ارکان کو مختلف لالچ اور دھمکیوں کے ذریعہ خریدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی سے منتخب ہوکر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن ارکان اسمبلی کو چاہیئے کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے کر شامل ہوں۔ انہوں نے تمام ارکان کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے حلقوں سے ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوکر دکھائیں۔ کنٹیا نے ٹی آر ایس کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا کہ تمام 12 ارکان نے ایک ہی وقت میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مراحل میں ارکان نے انحراف کا اعلان کیا اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی جانب سے اسپیکر سے بارہا نمائندگی کی گئی کہ منحرف ارکان کے خلاف انسداد انحراف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ اسپیکر نے کانگریس کی نمائندگیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ حکومت کے دباؤ میں چند گھنٹوں میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کو ضم کرنے کا بلیٹن جاری کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر گورنر سے نمائندگی بے فیض ثابت ہوئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کی گئی ہے جس کی سماعت 11 جون کو مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں مقدمہ زیر دوران رکھتے ہوئے سی ایل پی کو کس طرح ضم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر ڈکٹیٹر کے انداز میں کام کررہے ہیں۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ میں اپوزیشن کا صفایا چاہتے ہیں، وہ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سے خوفزدہ ہوکر ارکان اسمبلی کو انحراف پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے دن آچکے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن ایک دلت کو سی ایل پی لیڈر کے طور پر برداشت نہیں کرسکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ تشکیل دینے والی سونیا گاندھی کے ساتھ کے سی آر نے دھوکہ دہی کی۔ رکن اسمبلی جگا ریڈی نے کہا کہ وقت آنے پر وہ حکومت کے خلاف شدت سے آواز اُٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں ماں کے ساتھ دھوکہ دہی کی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی ایک ماں کی طرح ہے جسے ارکان اسمبلی نے دھوکہ دیا ہے۔ کے سی آر اپوزیشن کے بغیر حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں پولیس کا راج قائم ہے۔ جگا ریڈی نے کہا کہ انہیں دولت کے عوض کوئی بھی خرید نہیں سکتا اور وہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ اسپیکر نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انضمام کیا ہے اور یہ انضمام عدالت میں نہیں ٹک پائے گا۔ رکن اسمبلی سریدھر بابو نے کہا کہ حکمرانی کیلئے عوام نے اقتدار دیا لیکن کے سی آر اقتدار کا استعمال کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کو خرید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز کچلنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ دستور کے مطابق پارٹی سے انحراف کی صورت میں اسمبلی کی رکنیت ختم ہوجاتی ہے۔ اسپیکر کو اختیارات موجود ہیں لیکن تلنگانہ کے اسپیکر نے غیر دستوری قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی میں منتخب ہوئے ہیں وہیں رہ کر عوام کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے جمہوریت اور دستور کے تحفظ کیلئے جدوجہد پر زور دیا۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے اعلان کیا کہ بھٹی وکرامارکا کی بھوک ہڑتال غیر معینہ مدت کی رہے گی۔ بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مطالبات کی تکمیل تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ چیف منسٹر اور اسپیکر نے تلنگانہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے فیصلہ سے کانگریس سے زیادہ عوام کا نقصان ہوا ہے۔ اسپیکر کے عہدہ پر فائز شخص سے ہمیں اس طرح کے رویہ کی امید نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اپوزیشن کے بغیر حکومت چلانا چاہتے ہیں جبکہ جمہوریت میں مستحکم اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت ہر شعبہ میں ناکام ہوچکی ہے۔
