پٹنہ ۔25فروری(سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوسرے دن آج شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) اور راشٹریہ جنتادل( آرجے ڈی ) کے اراکین کے مابین ہاتھا پائی کی نوبت آگئی جس کے بعد ایوان کی کاروائی پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔اسمبلی کی کاروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ایوان میں سی اے اے کے معاملے پر بحث کرانے کو لیکر تحریک التواتجویز منظور کئے جانے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ ان کے اس مطالبے کی حمایت میں آرجے ڈی اراکین اپنی نشستوں پر ہی شورو غل کرنے لگ گئے ۔ہنگامہ کے مابین پارلیمانی امور کے وزیر شرون کمار نے کہاکہ اگر اپوزیشن سی اے اے کے معاملے پر بحث چاہتی ہے تو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس پر اسمبلی اسپیکر وجے کمار چودھری نے کہاکہ ہماری پہلی خواہش ہوگی کہ وقفہ سوالات ہونے دیاجائے لیکن اگر حکومت اس معاملے پر بحث کرانے کیلئے تیار ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔اس معاملے پر تحریک التوا تجویز منظور کئے جانے کے بعد بحث شروع ہونے پر مسٹر یادو نے سی اے اے ، قومی شہری رجسٹر (این آر سی ) اور قومی مردم شماری رجسٹر ( این پی آر ) کو کالا قانون بتایا اور کہاکہ یہ ملک کو تقسیم کرنے والا قانون ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے ۔مسٹر یادو نے کہاکہ آئین میں صاف لکھا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شہری سے بھید بھاؤنہیں ہوگا ۔لیکن سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر تقسیم کرنے والا قانون ہے یہ شہریوں کے ساتھ تفریق کر تاہے ۔لیبر وسائل کے وزیر اور بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے مسٹر یادو کے بیان پر اعتراض ظاہر کیا اورکہاکہ پارلیمنٹ نے سی اے اے قانون پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن لیڈر اسے کالا قانون بتارہے ہیں تو کیا پارلیمنٹ کالا قانون پاس کرتاہے ۔ یہ قابل اعتراض ہے اس لئے مسٹر یادو کو اپنی بات واپس لینی چاہئے ۔اسی کولیکر بی جے پی لیڈر نتن نوین ، سنجے سراگی سمیت پارٹی کے کئی اراکین بیان واپس لینے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ بی جے اراکین کے مطالبے کے مابین ہی آرجے ڈی اراکین بھی مسٹر یادو کے بیان کی حمایت میں شورو غل کرنے لگے ۔دریں اثنائمسٹر سراگی ایوان کے درمیان میں آگئے اور مسٹر یادو سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مسٹر کمار نے انہیں واپس اپنی سیٹ پر آنے کی درخواست کی ، جس کے بعد وہ فورا ً واپس آگئے ۔ لیکن اسی دوران آر جے ڈی کے چندر شیکھر اور کچھ دیگراراکین مشتعل ہوکر حزب اقتدار کی بینچ تک پہنچ گئے ۔اس کے بعد بی جے پی اراکین بھی مشتعل ہوگئے اور دونوں فریق کے اراکین ایک۔ دوسرے کے قریب آگئے اور ہاتھا پائی کی نوبت آگئی ۔ ایوان کو غیر منظم دیکھ کر اسپیکر نے 11.20بجے تک کیلئے کاروائی 15 منٹ تک کیلئے ملتوی کر دی ۔
