این آر سی اور این آر پی کا ایک دوسرے سے راست تعلق ، حکومت عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے :برنداکارت
ممبئی ۔ /27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ایم لیڈر برنداکارت نے آج مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے این آر سی اور این پی آر کو مرکزی حکومت ترشول کی طرح استعمال کررہی ہے اور اس ترشول سے عوام کے سینے پر وار کررہی ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ این آر سی اور این پی آر کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں این آر سی اور این پی آر کی مسلسل مخالفت کررہی ہیں اور اس مسئلہ پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے ۔ محترمہ برنداکارت نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کو ملک کے عوام کے سینوں پر ترشول کی طرح استعمال کررہی ہے جس سے ملک کی عوام زخمی ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت دستور کے خلاف ورزی کے مرتکب ہورہی ہے ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں خواتین کی کیا صورتحال ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو جھوٹ کے پیداواری یونٹ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یومیہ 93 خواتین کی عصمت ریزی کی جاتی ہے جس میں سے ہر تیسرا متاثرہ کمسن لڑکیاں ہوتی ہیں مگر ان خاطیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا تناسب محض 4 فیصد ہے ۔ حکومت کے دعویٰ کے برعکس انہوں نے زور دے کر کہا کہ این آر سی ، این پی آر اور سی اے اے کا ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت این پی آر 2010 ء کا حوالہ دے رہی ہے تو پھر 2020 ء میں کئے جارہے این پی آر میں مزید 6 سوالوں کا اضافہ کیوں کیا گیا ہے ۔ برنداکارت نے پوچھا کہ ان 6 سوالوں میں عوام کو اپنے مرحوم والدین کی جائے پیدائش اور تاریخ کے ثبوت کیلئے دستاویزات دینا پڑے گا جو عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ واضح رہے کہ برنداکارت بائیکلہ میں آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس اسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کررہی تھیں ۔ انہوں نے ایک بار پھر این پی آر کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کی مذمت کی ۔
