سی اے اے ، این آر سی مسئلہ پر بی جے پی مغربی بنگال میں پھوٹ

,

   

Ferty9 Clinic

شہریت قانون پر جارحانہ تیور اختیار کرنا چاہئے یا نہیں پر پارٹی قائدین کا تضاد، حکمرانی کیلئے متبادل پالیسیوں پر غور

کولکتہ۔ 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شرمناک شکست کے بعد پارٹی کے انتخابی مینیجرس خاص کر مغربی بنگال یونٹ کے بی جے پی قائدین میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ پارٹی کے بعض کٹر پسند قائدین شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پر اپنی جارحانہ حکمت عملی برقرار رکھنے کے لئے زور دے رہے ہیں۔ اعتدال پسند قائدین سی اے اے، این آر آر سی کے ہاتھوں بی جے پی کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے دہلی میں حکمرانی کے نعرہ پر مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کیا ہے۔ مغربی بنگال میں 2021ء کے اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی حکمت عملی بنانے سے متعلق بی جے پی مغربی بنگال یونٹ میں دو ذہن کام کررہے ہیں۔ ایک گروپ جارحانہ روش اپنانے کیلئے بضد ہے تو دوسرا گروپ پارٹی کو اقتدار پر لانے کیلئے اعتدال پسند پالیسیاں بنانے کا خواہاں ہے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق مغربی بنگال کی طرح جہاں بی جے پی 2019ء کے پارلیمانی انتخاب میں 42 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ 18 پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس طرح دہلی کی تمام 7 لوک سبھا نشستوں پر قبضہ کیا تھا لیکن 2020ء کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا صفایا ہوگیا۔ اسی لئے مغربی بنگال بی جے پی یونٹ کو ڈر ہے کہ مغربی بنگال لوک سبھا انتخابات میں 42 کے منجملہ 18 پر کامیابی کے باوجود اگر 2021ء کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو شدید دھکہ پہونچے تو پارٹی کا مغربی بنگال میں حکومت بنانے کا خواب چکنا چور ہوجائے گا۔ لوک سبھا انتخابات کے چند ہفتوں کے اندر ہی بی جے پی کے خلاف عوام کے اندر شدید ناراضگی پیدا ہونا اچھی علامت نہیں ہے۔ لہذا دہلی اسمبلی انتخابات ناکامی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ناکامی کو اعلیٰ قیادت نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کیلئے حکمت عملی تیار نہیں کی تو اسے دہلی کی طرح شکست کھانی پڑے گی۔ بی جے پی کا اعتدال پسند گروپ چاہتا ہے کہ ریاستی انتخابات کے لئے ہماری حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ عام انتخابات کیلئے یہی حکمت عملی کامیاب ہوتی تو وہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھی کام کرجاتی۔ ہماری مہم کا اہم حصہ سی اے اے کو روبہ عمل لانے کیلئے زور دینے ، این آر سی کی ضرورت پر توجہ دینے پر محیط نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ پارٹی کو حکومت کرنے کی غرض سے متبادلات پر توجہ دینے اور بہتر پالیسیاں بنانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بی جے پی کو عوامی مقبولیت میں کمی کو دیکھتے ہوئے اہم پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ گزشتہ ایک سال سے این آر سی کیلئے بڑھتے مطالبات اور دراندازی کو نکال باہر کرنے کی ترکیب پیچھے رہ گئی اور نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج ابھر کر سامنے آگیا ہے۔