سی اے اے اقلیتوں کیخلاف زیادہ نفرت کاسبب

   

حکومت ہند کا قانون بین الاقوامی شرائط کی خلاف ورزی : اقوام متحدہ افسر

نئی دہلی۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سخت بیان میں شہریت ترمیمی قانون 2019ء کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ قانون اقلیتی برادریوں کے خلاف نفرت پر مبنی بیان بازی اور امتیاز و تعصب کے واقعات میں اضافہ کا سبب بنا ہے۔ یو این کے ذریعہ جاری کردہ صحافتی بیان میں خصوصی مشیر برائے انسداد نسل کشی اڈاما ڈیانگ نے کہا کہ سی اے اے کا مقصد اقلیتوں کا تحفظ بتایا گیا جو قابل ستائش ہے لیکن اس میں بعض گروپوں جیسے مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کیا کہ اس طرح کا قانون عدم تعصب کے بارے میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون اور شرائط کی حکومت ہند کی طرف سے خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے ہر سطح پر اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس سے لے کر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ تک تمام اعلیٰ افسران نے سی اے اے کی مذمت کی ہے۔ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشل بیاشلے نے سپریم کورٹ میں مداخلت کی درخواست داخل کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف سماعت میں انہیں بھی فریق بنانے کی استدعا کی ہے۔