سی اے اے ، این پی آر ، این آر سی نہیں چاہئے ۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے بیانرس، بازوؤں پر سیاہ پٹیوں کیساتھ مظاہرہ
نئی دہلی۔31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر رامناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے آج خطاب کے دوران جب شہریت ترمیمی قانون کی ستائش کرتے ہوئے اسے تاریخی قانون قرار دیا، اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی۔ 14 اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس کے ارکان سیاہ پٹیاں لگائے ایوان کو آئے اور ان کے ہاتھوں میں بیانرس تھے جن پر سی اے اے، این پی آر اور این آر سی نہیں چاہئے درج تھا۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے اگلی قطار میں اپنے لئے مختص نشستوں پر بطور احتجاج نہیں بیٹھے۔ اس کے بجائے وہ پانچویں قطار میں پارٹی ایم پیز ششی تھرو، منیش تیواری اور راہول گاندھی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کئی کانگریس ایم پیز بشمول ادھیر رنجن چودھری اور گورو گوگوئی کو احتجاجاً سیاہ پٹیاں لگائے دیکھا گیا۔ سیاہ پٹیاں لگانے والے اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین میں این سی پی، ایس پی، ڈی ایم کے، آر جے ڈی، سی پی آئی۔ ایم، شیوسینا، جے ایم ایم، جے ڈی ایس، آر ایس پی، کیرالا کانگریس (ایم)، آئی یو ایم ایل اور نیشنل کانفرنس کے لیڈرس بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن قائدین نے کہا کہ سیاہ پٹیاں حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ قانون شہریت کی منظوری کے ذریعے ہندوستان کے دستور پر مبینہ حملے کے خلاف احتجاج کا اظہار ہے۔ جب کووند نے آرٹیکل 370 کے خصوصی دفعات کی تنسیخ سے متعلق اقتباس پڑھا، جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دے رکھا تھا، کئی ارکان نے تالیاں بجائے۔ تاہم، کافی دیر تک تالیاں تب بجائی گئیں جب انھوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے بارے میں اقتباسات پڑھے۔ برسراقتدار پارٹی کے ارکان تقریباً نصف منٹ تک میز تھپتھپاتے رہے۔ اس موقع پر بعض اپوزیشن ارکان نے ’’شرم، شرم‘‘ کے نعرے لگائے۔ صدارتی خطبہ کے اواخر میں ترنمول کانگریس نے ’’نو سی اے اے‘‘ ، ’’نو این پی آر‘‘ اور ’’نو این آر سی‘‘ کے بیانرس اٹھائے۔ یہ مظاہرہ تقریباً پانچ منٹ جاری رہا۔ ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک او برین نے نعرے لگانے والے ارکان کے ساتھ سیلفی بھی لی۔
