سی اے اے پر فرقہ وارانہ مقاصد کیساتھ آر ایس ایس کی عمل آوری

,

   

Ferty9 Clinic

قانون کیخلاف کیرالا میں احتجاج جاری رہے گا،وزیراعظم مودی کا بیان غیر درست ، پنارائی وجئین کا بیان

تھرواننتاپورم 7 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سی اے اے کیخلاف احتجاج میں انتہا پسندوں کے شامل ہوجانے چیف منسٹر کیرالا کے بیان کا وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے پارلیمنٹ میں حوالہ دیئے جانے کے ایک دن بعد ریاستی چیف منسٹر پنارائی وجئین نے جمعہ کو جوابی وار کیا اور کہاکہ وزیراعظم کا بیان حقائق سے بعید، غیر درست اور قابل مذمت ہے۔ شہریت کے نئے قانون پر قوم کو غلط معلومات دینے اور گمراہ کرنے اپوزیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز اُنھیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ وجئین ایک طرف یہ خبردار کرتے ہیں کہ مخالف سی اے اے احتجاج میں انتہا پسند عناصر شامل ہورہے ہیں اور دوسری طرف ان (وجئین) کی پارٹی دہلی میں ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے صدرجمہوریہ کے پیر کو کئے گئے خطاب پر تحریک تشکر پر بحث کے جواب میں وزیراعظم مودی نے یہ بیان دیا تھا۔ وجئین نے فیس بُک پوسٹ پر لکھا کہ ’وزیراعظم کی طرف سے راجیہ سبھا میں دیا گیا بیان حقائق کے اعتبار سے غیر درست اور قابل مذمت ہے‘۔ وجئین نے اس بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کو اپنے بیان میں ترمیم و اصلاح کرنی چاہئے۔ سی پی آئی (ایم) کے بزرگ لیڈر نے کہاکہ ’شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری عوامی تحریک سے علیحدہ ہونے کے لئے کیرالا تیار نہیں ہے۔ ان عناصر کے خلاف بھی جدوجہد جاری رکھی جائے گی جو مذاہب اور طبقات کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا ایجنڈہ رکھتے ہیں۔ وجئین نے مزید لکھا کہ ’عوامی تحریک میں دراندازی کی کوشش کرنے والے عناصر کو ہم نے خبردار کیا تھا اور ان پر نظر بھی رکھی تھی۔ سی اے اے کو آر ایس ایس کی طرف سے ایک فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے مطابق روبہ عمل لایا جارہا ہے جس کے خلاف سیکولرازم کی طاقت کے ذریعہ نمٹا جانا چاہئے‘۔ کیرالا کے چیف منسٹر نے مزید لکھا کہ ’اس ضمن میں یہ ریاست سارے ملک میں ایک مثالی نمونہ بن کر اُبھری ہے۔ سیکولر کیرالا میں ان فرقہ پرست عناصر کو روکنے کی طاقت موجود ہے جو (عناصر) مخالف سی اے اے عوامی تحریک میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں‘۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ایک عزم تھا جس میں اُنھوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (سی ڈی پی آئی) جیسی تنظیموں کے احتجاج میں انتہا پسندوں کی دراندازی کا تذکرہ کیا تھا۔ وجئین نے وزیراعظم مودی سے اپنے بیان پر معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ’سنگھ پریوار کے فرقہ پرست ایجنڈہ سے نمٹنے کے لئے اس ریاست کو اپنے سیکولر تانے بانے پر پورا بھروسہ ہے۔ ہمارے احتجاج کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ کیرالا کی احتجاجی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے دیئے گئے اپنے بیان کی اصلاح کرنا چاہئے‘۔