شہریت ترمیمی قانون گاندھی جی کی امنگوں کی تکمیل ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے رامناتھ کووندکا خطاب
نئی دہلی ، 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی، جس پر بعض اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی مسئلہ پر مباحث اور بات چیت جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں جبکہ احتجاجوں کے دوران تشدد اسے کمزور کرتا ہے۔ ’’شہریت ترمیمی قانون تاریخی ایکٹ ہے۔ اس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی امنگوں کو پورا کیا ہے۔‘‘ جیسے ہی صدر نے یہ ریمارکس کئے، بعض اپوزیشن ممبرز نے ’’شرم، شرم‘‘ کے نعرے لگائے اور بیانرس بھی دکھائے۔ کووند نے یہ واضح بھی کردیا کہ تمام مذاہب کے لوگوں اور انھیں بھی جو ہندوستان پر بھروسہ رکھتے ہیں اور ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں، ان سب کیلئے طریقہ کار بدستور وہی ہے۔ انھوں نے ملک میں مخالف سی اے اے احتجاجوں کا راست حوالہ دیئے بغیر جن میں سے بعض میں تشدد پیش آیا، کہا کہ بحث اور بات چیت سے جمہوریت کو تقویت پہنچتی ہے لیکن احتجاجوں کے دوران تشدد سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔
صدرجمہوریہ کی تقریر میں این آر سی کا حوالہ نہیں
نئی دہلی 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بجٹ تقریر میں این آر سی کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ بجٹ سیشن کا آج سے آغاز ہوا ہے۔ ہندوستان کے تمام شہریوں کا ڈیٹا ترجیحی بنیادوں پر اکٹھا کرنے کے اعلان کے سات ماہ بعد صدرجمہوریہ نے یہ خطاب کیا ہے۔ 20 جون 2019 ء کو نئی لوک سبھا کی تشکیل کے بعد کووند نے کہا تھا کہ غیر قانونی درانداز ملک کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اِس کی وجہ سے سماجی عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ میری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں قومی رجسٹر سٹیزنس کا عمل شروع کرے گی اور یہ عمل ترجیحی بنیادوں پر ہوگا تاکہ دراندازوں کی شناخت کی جاسکے اور انھیں ملک سے باہر کیا جاسکے۔ تاہم آج جمعہ کے دن صدرجمہوریہ کے خطاب میں این آر سی کا کوئی ذکر نہیں پایا گیا۔ این آر سی اور سی اے اے کیخلاف ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے۔ اِس احتجاج کے باعث وزیراعظم نریندر مودی نے 22 ڈسمبر کو این آر سی پر پائے جانے والے اندیشوں کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاص کر مسلمانوں کے اندر این آر سی سے متعلق پائے جانے والے خوف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2014 ء میں پہلی مرتبہ اقتدار پر آنے کے بعد سے این آر سی کے بارے میں کوئی غور نہیں کیا گیا۔ اِس پر نہ تو پارلیمنٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی کابینہ میں غور کیا گیا۔